Showing posts with label سائنس اینڈ ٹیکنالوجی. Show all posts
Showing posts with label سائنس اینڈ ٹیکنالوجی. Show all posts

Sunday, September 16, 2012

ایپل نے آئی فون 5 لانچ کر دیا 


آئی فون 5
آئی فون 5 اکیس ستمبر سے بازار میں فروخت ہونے لگے گا

مشہور ٹیکنالوجی کمپنی اپیل نے امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ایک تقریب کے دوران آئی فون کا نیا ورژن آئی فون 5 متعارف کروایا ہے۔یہ فون ماضی کے آئی فون کے مقابلے میں قدرے لمبا ہے اور فور جی نیٹورک سے ہم آہنگی رکھتا ہے۔ آئی فون کے مقابلے میں بڑی سکرین والے اس فون میں صارفین کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ سکرین پر ’آئکنز‘ کی ایک اور قطار بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایپل کا کہنا ہے کہ ان کا یہ نیا فون برطانیہ کے 4 جی ایل ٹی نیٹورک ای ای یعنی ( Everything Everywhere) پر بھی چل سکے گا۔ایپل کا کہنا ہے کہ نیا فون اکیس ستمبر سے مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔ایپل کا دعویٰ ہے کہ آئی فون 5 کی سکرین بالکل ایسی ہی ہے جیسے وائڈ سکرین ٹی وی کی ہوتی ہے۔لیکن ابھی بھی گیارہ سینٹی میٹر لمبی سکرین والے اس فون کا سائز ایپل کی حریف کمپنیوں کے سمارٹ فون جیسے نوکیا، سیم سنگ، موٹورولا، اور ایل جی کے فون سے چھوٹا ہی ہے۔اس فون میں کیمرہ آئی فون 4 کی طرح آٹھ ميگا پکسل کا ہی ہے۔ایپل کی عالمی مارکیٹنگ کے نائب صدر فل شلر کا کہنا ہے کہ اس فون میں بعض ایسے سافٹ ویئر ہیں جس کی وجہ سے کم روشنی میں بھی اس فون کا کیمرہ بہترین تصاویر کھینچے گا۔اس فون میں نوکیا لوما92 کی طرح وائرلیس طریقے سے فون چارج کرنے کی سہولت نہیں ہے۔یہ فون سولہ جی بی، بتیس جی بی، اور چونسٹھ جی بی کے میموری کارڈ کے ساتھ فروخت کیا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق اس فون کے بنیادی ماڈل کی قیمت برطانیہ میں پانچ سو انتیس پاؤنڈ ہوگی جبکہ اگر اس فون کو کسی نیٹورک کے کانٹریکٹ سے ساتھ خریدا جائے گا تو اس کی قیمت کم ہو جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی فون 5 میں ایپل کی حریف کمپنیوں کے سمارٹ فونز کے مقابلے میں سہولیات کم ہیں لیکن پھر بھی یہ فون لوگوں کو بے حد پسند آئے گا اور صارفین میں کافی مقبول ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فون کی فروخت مستقبل میں ایپل کمپنی کی مالیت کا فیصلہ کرے گی یعنی اس کی فروخت ایپل کی آمدنی کا اہم حصہ ہوگی۔

Saturday, July 14, 2012

’سرن میں پاکستانی سائنسدانوں کی بڑی قدر‘

سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں جوہری تحقیق کی یورپی تجربہ گاہ ’سرن ‘سے منسلک ڈاکٹر حفیظ ہورانی کے مطابق سرن لیبارٹری کے ساتھ تیس کے قریب پاکستانی سائنسدان کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ انیس سو چورانوے میں سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا اور اس وقت سے اب تک تقریباً سو سے زائد سائنسدان سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
سرن کے ہیڈرون کولائیڈر منصوبے سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر حفیظ ہورانی کے مطابق ایک وقت میں لیبارٹری میں پندرہ کے قریب سائنسدان کام کرتے ہیں اور باقی سائسندان پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے تحقیقی کام کرتے ہیں جس کو ویلیو ایڈیشن کہا جاتا ہے۔
’سرن سے مختلف مواد تحقیق کے لیے بھیجا جاتا ہے اور یہاں پاکستان میں اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد مختلف ماڈلز تیار کر کے واپس بھیجے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر سائنسدانوں کا تعلق نیشنل سینٹر فار فزکس اور پاکستان کے جوہری ادارے ’پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سائنسدانوں کی مہارت اور قابلیت کی یورپ میں، خاص طور پر سرن سے متعلق کام کے حوالے سے بہت قدر کی جاتی ہے اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کے چالیس سائنسدان سرن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور پاکستانی سائنسدانوں کی تعداد تیس ہے۔
’سرن میں بھارتی سائنسدان صرف ایک منصوبے میں جبکہ پاکستانی سائنسدان دو پراجیکٹس’سی ایم ایس اور ایلس‘ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو( Experimental High Energy Physics) کہتے ہیں اور یہ سرن کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرن میں دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے سائنسدان کام کرتے ہیں اور پاکستانی سائنسدانوں کو ان کے ساتھ مل کر کام کرنے اور اس سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
’سرن میں دنیا کے جدید ترین آلات موجود ہیں جو کہ دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں، اور ان آلات پر ہمیں کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔‘
ڈاکٹر حفیظ ہورانی سے سیکھے گئے تجربات اور علم کو دیگر پاکستانی سائنسدانوں تک منتقل کرنے کے لیے اس شعبے کو نصاب میں شامل کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Saturday, July 7, 2012

وقت میں ایک سیکنڈ کا اضافہ 


دنیا میں وقت ناپنے کے دو بین الاقوامی طریقے مقرر کیے گئے ہیں
سنیچر کی رات دنیا بھر کی الیکٹرانک گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وہ زمین کی روزانہ گردش سے تال میل برقرار رکھ سکیں۔
گھڑیوں کے ایجاد سے پہلے لوگ وقت کا اندازہ آسمان میں سورج کے مقام سے لگاتے تھے لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، یہ پتہ چلا کہ زمین کو سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرنے میں ٹھیک چوبیس گھنٹے نہیں لگتے ہیں 
اس تاخیر کی وجہ مدوجزر اور موسمیاتی و ارضیاتی تبدیلیاں ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد دنیا بھر کی گھڑیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کچھ حکومتیں اور سائنسدان وقت اس تبدیلی کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے دنیا بھر کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو خطرہ ہو سکتا ہے.
تاہم اس عمل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ قدرتی نظام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق اگر اس ایک سیکنڈ کا اضافہ نہیں ہوتا تو وقت ناپنے والی ہماری گھڑیاں اور زمین کی گردش کے وقت کے درمیان کا فاصلہ بڑھ جائےگا جو مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دنیا میں وقت ناپنے کے دو بین الاقوامی طریقے مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک بین الاقوامی ایٹمی وقت جو دنیا بھر میں پھیلی ایٹمی گھڑیوں پر مبنی ہے اور دوسرا يونورسل ٹائم 1 جو گرينچ مین ٹائم کا جانشین ہے جس میں وقت کا تعین آسمان میں سورج کے مقام سے کیا جاتا ہے۔
پہلے طریقے کے مطابق ایٹمی گھڑیوں کو قریب ہر اٹھارہ ماہ بعد بہتر کیا جاتا ہے تاکہ وقت ناپنے کے طریقوں میں ایک سیکنڈ سے زیادہ کا فرق نہ آئے۔

Friday, June 8, 2012

’شہد کی مکھیوں کا خاتمہ ہو رہا ہے‘ 


شہد کی مکھی
حوائی میں ابھی بھی بہت سے جزائر ایسے ہیں جہاں شہد کی مکھیاں ان سے بچی ہوئی ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خون چوسنے والے ایک مائٹ (کیڑے) کی مدد سے ایک وائرس نے اس دنیا سے اربوں شہد کی مکھیوں کو ختم کردیا ہے۔
ہوائی میں سائنسدانوں کی جانب سے کیے گئے تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ ویورا نامی کیڑے نے وائرس پھیلایا جس سے شہد کی مکھیوں کے پر تباہ ہوگئے۔ یہ وائرس بعد میں شہد کی مکھیوں کے خون میں پھیلا اور اس کا اثر سیدھے ان کے دماغ پر ہوا جس سے مکھیاں مرنے لگیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے ’یہ دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کو تباہ کرنے والے سب سے خطرناک وائرس میں سے ایک ہے۔‘ یہ تحقیق ایک جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔
شفیلڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر سٹیفن مارٹن کی قیادت میں ہوئی اس تحقیق میں محقیقین نے حوائی میں شہد کی مکھیوں کی اموات کی تفتیش کی جس سے معلوم ہوا کہ ویورا نامی وائرس کیلیفورنیا سے پانچ برس پہلے یہاں پہنچا۔

زمین سے زہرہ کا نایاب نظارہ  


زمین کے باسیوں نے نظامِ شمسی کے سیارے زہرہ کا ایک ایسا نایاب نظارہ دیکھا ہے جو دوبارہ ایک سو پانچ برس بعد دیکھنے کو ملے گا۔
اس عمل کے دوران زہرہ سورج اور زمین کے درمیان سے گزرا اور سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے یہ ایک چھوٹی سی کالی گول ٹکیا کی مانند دکھائی دے رہا تھ

سب سے پتلا اور لچکدار شیشہ تیار


کمپنی نے موبائل فونز کی کمپنیوں کو یہ شیشہ فراہم کرنا شروع کردیا ہے
ایک امریکی کمپنی نے سب سے پتلا اور لچکدار شیشہ تیار کیا ہے جو کسی آلے کے گرد لپیٹا جاسکتا ہے۔
نیویارک کی کورننگ نامی کمپنی نے اس شیشے کو ’ولو گلاس‘ کا نام دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس شیشے کو موبائل کی سکرین پر استعمال کیا جاسکتا کیونکہ موبائل فونز پتلے ہوتے جا رہے ہیں۔
اس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر دیپک چوہدری کا کہنا ہے ’آج کل یہ اہم مسئلہ ہے کہ چھوٹی اور بڑی اشیاء کی سکرین کس طرح پتلی سے پتلی ہونے چاہیے۔

Sunday, June 3, 2012

اپنے آپ چلنے والی گاڑیاں، تجربہ کامیاب

گاڑیوں کی رفتار پچاسی کلومیٹر فی گھنٹا تھی جبکہ ان کے درمیان فاضلہ چھ میٹر تک کا تھا۔
سپین میں اپنے آپ چلنے والی گاڑیوں کے ایک کارواں نے ہسپانی موٹروے پر دو سو کلومیٹر کا سفر طے کر لیا ہے۔
اپنی نوعیت کے اس پہلے تجربے میں ڈرائیوروں کے بغیر چلنے والی ان گاڑیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بےتار رابطہ قائم کیا گیا ہے اور تمام گاڑیوں نے سب سے آگے چلنے والی گاڑی کی نقل کی جسے ایک ڈرائیور چلا رہا تھا۔
روڈ ٹرین کہلانے والے گاڑیوں کے اس کارواں کو گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’والوو‘ نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی روڈ ٹرینیں مستقبل میں دستیاب ہوں گی اور ان کا مقصد آرام دے ڈرائیونگ کو متعارف کرانا ہے۔
والوو کےمطابق اب ڈرائیور گاڑی چلاتے چلاتے ’اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر سکتے ہیں، کتاب پڑھ سکتے ہیں یا پھر آرام سے پیچھے بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔‘
روڈ ٹرین کا تجربہ یورپی کمیشن کی ایک ریسرچ کا نتیجہ ہے اور ہسپانی موٹروے پر سفر طے کرنے والے کارواں میں تین گاڑیاں اور ایک لاری شامل ہے۔
ان تمام گاڑیوں کی رفتار پچاسی کلومیٹر فی گھنٹا تھی جبکہ ان کے درمیان فاصلہ چھ میٹر تک کا تھا۔
اس پراجیکٹ کی مینیجر لنڈا واہلسٹروم نے بتایا ’ہم نے ایک دن میں دو سو کلومیٹر طے کیے اور یہ تجربہ کامیاب رہا ہے۔ ہم بے حد خوش ہیں۔‘

Sunday, May 13, 2012

source bbc urdu


تھر پارکر میں مشتبہ شہابیہ گرنے کا واقعہ دنیا میں ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں مگر پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے: سپارکو
پاکستان کے خلائی ادارے ’پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹماسفیر ریسرچ کمیشن‘ یعنی سپارکو نے مشتبہ شہابیہ (میٹرورائٹ) کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ٹیم ڈیپلو روانہ ہوگئی ہے۔

Saturday, April 28, 2012

جھوٹ پکڑنے کے طریقے

کئی لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ کچھ اپنے مفادکے لیے، کچھ مصلحت کے تحت اور کئی محض دوسروں کو پریشان کرکے لطف اٹھانے کے لیے۔ جھوٹ بڑی حیثیت رکھنے والے بھی بولتے ہیں اور عام افراد بھی۔ بڑے آدمی کے جھوٹ کا اکثر اوقات اس کے بولنے کے دوران ہی پتا چل جاتا ہے ، لیکن کوئی اسے کہہ نہیں سکتا۔ جب کہ چھوٹے آدمی کے جھوٹ پر عموماً کوئی دھیان نہیں دیتا۔

Saturday, April 14, 2012

گوگل ارتھ اورگمشدہ بچہ

۔
سنہ انیس سو چھیاسی میں گم ہو جانے والے ایک بھارتی بچے نے پچیس سال بعد گوگل ارتھ کی سیٹلائٹ کی تصویروں کی مدد سے اپنی ماں کو ڈھونڈ لیا ہے۔
آسٹریلیا کی ریاست ٹیزمینیا میں مقیم سارو کا کہنا ہے کہ وہ صرف پانچ برس کے تھے جب بھارت میں ایک ٹرین سٹیشن پر وہ اپنے بھائی سے بچھڑ گئے۔
سارو نے بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ وہ اپنے بھائی کی کھوج میں ایک ٹرین پر سوار ہوئے جو انہیں بھارت کے تیسرے بڑے شہر کلکتہ لے گئی۔
’میں بےحد ڈرا ہوا تھا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ تاہم میں نے لوگوں کو ڈھونڈنا شروع کیا اور ان سے سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔‘
سارو کے بقول ’وہ بہت ہی خطرناک جگہ تھی۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی ماں باپ اپنے پانچ سالہ بچے کو کلکتہ کے گندے محلوں اور ٹرین سٹیشنوں میں اکیلے پھرتے دیکھنا چاہیں گے۔‘
تاہم ایسے میں سارو نے اکیلے رہنا سیکھ لیا اور انہوں نے بھیک مانگ مانگ کر گزارہ چلایا۔ ان کے بقول کچھ عرصہ ایسے گزرنے کے بعد انہیں ایک یتیم خانے نے اپنا لیے اور وہیں سے ان کی قسمت جاگی اور انہیں ایک آسٹریلوی جوڑی نے گود لے لیا۔
’میں یہ تسلیم کر چکا تھا کہ میں گم گیا ہوں اور میں اپنا گھر نہیں ڈھونڈ سکتا تاہم ایسے میں، میں نے سوچا کہ آسٹریلیا جانا ایک ذبردست بات ہوگی۔‘
اگرچہ وقت گزرتا گیا اور سارو آسٹریلیا میں اپنے نئے گھر میں رہنے لگے لیکن انہوں نے بتایا کہ ان کے دل میں اپنے پیدائشی خاندان کو ڈھونڈنے کی خواہش بڑھتی گئی۔ تاہم ایسے میں انہوں نے گوگل ارتھ کا استعمال کرنا شروع کر دیا اور کرتے کراتے انہیں ان کے آبائی علاقے کھنڈوا کا نقشہ مل ہی گیا۔
سارو نے بتایا کہ گوگل ارتھ کی تصاویر میں انہیں وہ جگہیں بھی مل گئیں جہاں وہ بچپن میں کھیلا کرتے تھے (جیسا کہ ایک آبشار) تاہم اس دریافت کے بعد انہوں نے یہاں جانے کا فیصلہ کیا۔۔"
سارو نے بتایا کہ ان کے پاس پچپن کی اپنی ایک تصویر تھی اور انہیں اپنے گھر والوں کے نام بھی یاد تھے۔ تاہم ان کی مدد سے وہ اپنی ماں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
سارو کے بقول ’میں نے جب انہیں آخری مرتبہ دیکھا تھا تو ان کی عمر چونتیس برس تھی اور وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ عمر کے ساتھ وہ اس قدر بدل جائیں گی۔‘
سارو نے بتایا ’میرا ہاتھ تھام کر وہ مجھے اپنے گھر لے گئیں۔ وہ میرے سے کچھ نہیں کہہ پائیں۔ میرے خیال میں وہ بھی مجھے دیکھ کر اسی طرح سکتے میں چلی گئیں جیسے میں ان کو دیکھ کر چلا گیا تھا۔‘

Saturday, March 10, 2012

سورج کا طوفان

سورج پر طوفانوں کا آنا معمول کا عمل ہے۔ شمسی طوفان زمین پر ٹیلی مواصلات ، برقی آلات اور بجلی کی ترسیل کے نظاموں میں خلل پیدا کرسکتے ہیں، جب کہ سورج اور زمین کی مقناطیسی لہروں کے ٹکراؤ سے قطبی علاقوں میں رنگ برنگی روشنیوں کے دل فریب اور دلکش نظارے دیکھنے میں آتے ہیں۔

فوٹو REUTERS
قطبی روشنیاں

سورج پر ان دنوں ایک بڑا طوفان آیا ہواہے اور اس سے خارج ہونے والے برقی ذرات، ایکس ریز، الٹرا وائلٹ ریز، تابکاری اور مقناطیسی لہریں زمین سمیت اس شمسی نظام کے تمام سیاروں کو متاثر کررہی ہیں۔ زمین پر شمسی طوفان کے اثرات قطبی علاقوں میں تیزروشنی کی لہروں، ٹیلی مواصلاتی نظام میں خلل، بجلی کی ترسیل میں گڑبڑ،راستوں اور مقامات کا تعین کرنے والے الیکٹرانک گوبل پوزیشننگ سسٹم میں تعطل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں ۔جس سے قطبی علاقوں کے نزدیک طیاروں کی پروازوں کے روٹ تبدیل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ بسااوقات شمسی طوفان سمندروں میں تغیانی کا سبب بھی بنتے ہیں۔
2012ء کے شمسی طوفان کا شمار سورج کی سطح پر نمودار ہونے والے بڑے طوفانوں میں کیا جارہاہے اور فلکیات کے ماہرین کا کہناہے کہ کچھ عرصے تک وقفوں وقفوں سے سو رج پر جنم لینے والے طوفان کرہ ارض پر زندگی کے معمولات متاثر کرتے رہیں گے۔ ماہرین نے اگلے سال ایک اور طاقت ور شمسی طوفان کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
سورج پر شمسی طوفان کیوں آتے ہیں ؟ یہ جاننے کے لیے پہلے سورج کی ساخت کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔


REUTERS

Friday, February 24, 2012

آئن سٹائن کی جیت

نومبر 2011ء میں روشنی سے تیزرفتار ذرے نیوٹرینو کی دریافت اور آئن سٹائن کے شہرہ آفاق نظریہ اضافیت کو غلط قرار دینے کے بلند بانگ دعوے کرنے والے سائنس دانوں نے اب دبے لفظوں میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ان سے تجربات میں غلطی ہوگئی تھی اور آئن سٹائن کی سچائی آج بھی برقرار ہے۔

Friday, February 3, 2012

’انسانی خیالات پڑھنے کی جانب پہلا قدم‘

امریکہ میں سائنسدانوں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے دماغ سے نکلنے والی لہروں کو پڑھنے اور خیالات کو الفاظ کی شکل دینے کی جانب پہلا قدم بڑھا لیا ہے۔
اس سے یہ ممکن ہو سکے گا کہ کسی شخص کے کچھ بولنے سے پہلے ہی یہ جانا جا سکے گا کہ وہ کیا کہنے جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے دماغ میں کچھ آلات لگا کر اور ایک کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے ایسا ممکن کر دکھایا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج سے یہ امید جاگی ہے کہ مستقبل میں دماغی بیماریوں کا شکار یا صحیح طریقے سے بولنے سے معذور افراد کی باتیں سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
سائنسدانوں نے یہ آلات دماغ کے اس حصے میں لگائے جو زبان پر کام کرتا ہے اور وہاں سے حاصل ہونے والے پیچیدہ برقی سگنلز کو کمپیوٹر کی مدد سے صوتی لہروں میں بدل کر اسے ڈی كوڈ کیا گیا اور یوں اسے الفاظ اور جملوں کی شکل میں سنا جا سکا۔
سائنسی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جیسن پامر کا کہنا ہے کہ یہ کسی سائنسی افسانے کی طرح ہے جس میں آپ کسی کے خیالات کو پڑھ کر انہیں سن بھی پا رہے ہیں یعنی آپ کسی شخصیت کے دماغ سے براہ راست بات کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محقق رابرٹ نائیٹ کا کہنا ہے دماغ سے نکلنے والی لہروں کو پڑھنے کے دو طریقے ہیں، پہلا بنیادی سائنسی طریقہ کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے اور دوسرا طریقہ دماغ میں مصنوعی آلات لگا کرسننے کا طریقہ۔
رابرٹ نائیٹ کے مطابق ایسے افراد جو بول نہیں سکتے دماغ میں لگائے جانے والے آلات کی مدد سے جو کچھ کہنا چاہیں گے اس کا تصور کر سکیں گے۔
محقیقین کے مطابق صحیح طریقے سے بولنے سے معذور افراد کے علاج میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
فلوریڈا میں اورلینڈو نامی ہسپتال کی ڈاکٹر منڈی کا کہنا ہے کہ ایسے آلات کے انقلابی فوائد ہیں۔
انہوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں دیکھ سکتی ہوں کہ دماغی بیماریوں کا شکار افراد کے علاج میں یہ طریقہ بہت فائدہ مند ہو گا۔
’اپنا ہدف خود تلاش کرنے والی گولی‘
گولی پر ایل ای ڈی لائٹ لگا کر اس کا راستہِ پرواز دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی فوج کے استعمال کے لیے ایک ایسی گولی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ کسی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے اپنا راستہ خودکار طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔
یہ گولی انتہائی چھوٹے پروں کی مدد سے اپنی پرواز کے راستے کا تعین کرتی ہے جس کے ذریعے وہ لیزر سے نشان زدہ اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
یہ گولی تقریباً دو کلومیٹر دور تک نشانہ لگا سکتی ہے۔ ابتدائی تجربات کے مطابق زیادہ فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے میں اس گولی کی درستگی بڑھتی جاتی ہے۔
ماہرین کے خیال میں یہ گولی نشانہ بازوں کے لیے تو بہترین ہے مگر عوام میں اس کی فروخت پریشان کن ہو سکتی ہے۔
اس منصوبے پر امریکی حکومت کے لیے کام معروف دفاعی ٹھیکےدار لاک ہیڈمارٹن کی ایک شاخ کر رہی ہے۔
اس وقت بنائے گئے ماڈل میں چار انچ کی گولی استعمال ہو رہی ہے جس کی اگلی نوک ایک حساس آلے کی مدد سے لیزر روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔ روشنی کی ان معلومات کو جانچ کر انتہائی چھوٹی موٹروں کی مدد سے اس گولی کے پروں کو ہلایا جاتا ہے جو کہ اس کا راستہ تبدیل کر سکتے ہیں۔
محقق ریڈ جونز کا کہنا تھا کہ ان کی گولی ایک سیکنڈ میں تیس مرتبہ اپنا راستہ بدل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک بار گولی غلط راستہ اختیار بھی کر لے تو اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم نے اس گولی کے زمینی اور کمپیوٹر کی مدد سے، دونوں قسم کے ٹیسٹ کیے ہیں۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ ابھی اس میں چند مسائل ہیں تاہم انہیں یقین ہے کہ وہ اس گولی کو بنانے میں اور اسے فروخت تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے میدانِ جنگ میں اس جدت کی بہت مانگ ہوگی۔
ان گولیوں کے لیے خاص قسم کے بارود استعمال کرنا ہوگا۔
رائل یونائئٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی سینیئر ریسرچ فیلو الزبتھ کوئنٹانا نے بی بی سی کو بتایا ’لیبیا کے معرکے میں ایک اہم کامیابی گزشتہ معرکوں کے مقابلے میں ہتھیاروں کی بہتر نشانہ بازی تھی۔ نیٹو ہتھیاروں نے ستانوے فیصد اپنے ہدف کو دو میٹر کے فاصلے کے اندر ہی نشانہ بنایا تاہم یہ کامیابی ہوائی ہتھیاروں کے استعمال سے حاصل کی گئی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرز کی گولی زمینی افواج کے لیے انقلابی ثابت ہوگی اور مستقبل میں شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے میں مدد کرے گی۔
عام گولیوں کے برعکس یہ گولی اپنے محور پر کم ہی گھومنے کی کوشش کرتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس گولی رفتار کو بڑھانے کے لیے خاص قسم کے بارود کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عموماً چھوٹے حجم کی رائفل گولیاں اپنے محور پر ایک سیکنڈ میں دو ہزار دفعہ تک گھومتی ہیں تاکہ ان کا راستہِ پرواز اور رفتار مستحکم رہے۔ دوسری طرف اس گولی کی پیٹنٹ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اس قدر تیزی سے گھومتی گولیوں کو خودکار طور پر راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت دینے میں جن برقیات کی ضرورت ہے وہ انتہائی پیچیدہ ہیں۔
چنانچہ محققین نے اس گولی کا نقطہِ محور گولی کے اگلے حصہ میں لے جا کر اس کو کم گھومنے اور آسانی سے راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت دے دی۔
رفتار کے معاملے میں اس گولی کی رفتار کو آواز کی رفتار سے دو گنا یعنی چوبیس سو فٹ فی سیکنڈ تک تک پہنچایا جا چکا ہے جو کہ عسکری استعمال کی گولیوں سے ابھی بھی کم ہے۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر تیار کردہ بارود کے استعمال سے اس گولی کی رفتار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

Saturday, January 28, 2012

sourse; voa


   سائنس اورتیکنالوجی: سوچوسو ہوجائے!

  کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں ذہن کے ساتھ مشینوں کو کنٹرول کیا جائے گاibm

فوٹو ASSOCIATED PRESS
آئی بی ایم کی انٹرنیشنل بزنس مشین

ماہرین کہتے ہیں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگوں کے پاس ایسا طریقہٴ کار ہوگا کہ کسی کو کال کرنے یا اِی میل کرنےکے بارے میں محض سوچتے ہوئے اِسےممکن بنایا جاسکے گا!
اپنے ذہن کے ذریعے کسی مشین کو کنٹرول کرنا اپنی ہی سرگرمیوں کی توانائی سے اپنے گھر میں پاور جنریٹ کرسکنا؟ یہ دو ایسی پیش رفت ہیں جِن کے بارے میں IBMکے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ آئندہ پانچ برسوں میں حقیقت کا روپ دھار لیں گی۔
تیکنالوجی کمپنی IBMنے اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جِس کے مطابق، ماہرین کا خیال ہے کہ جلد ہی لوگ محض اپنے ذہن استعمال کرتے ہوئے بیشتر الیکٹرک ڈوائسز کو کنٹرول کرسکیں گے۔
IBMاور دوسرے اداروں کے سائنس داں اِس کے لیے مختلف طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں اور سائنسی زبان میں اِس کے لیے ’بایو انفرمیٹکس‘ کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگوں کے پاس ایسا طریقہٴ کار ہوگا کہ کسی کو کال کرنے یا اِی میل کرنےکے بارے میں محض سوچتے ہوئے اِسے ممکن بنایا جاسکے گا!
برنی میرسن IBMمیں اختراع اور جدت کے شعبے کے نائب صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک سادہ سی صلاحیت ہے جِس میں ایک سسٹم کو کچھ کرنے کے لیے کمانڈ دی جاتی ہے۔ کچھ کہنا یا کرنا نہیں پڑتا۔ اور یوں، ایک درست نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہ حقیقتاً ایک بھرپور صلاحیت ہے جسے کوئی مفلوج یا اپاہج شخص اپنی دماغی لہروں یعنی ’برین ویوز‘ کی مدد سے کاموں کے ہونے کوممکن بنا سکے گا۔ اور یوں، آزادانہ طور پر بغیر کسی مدد کے اپنی زندگیاں بہتر انداز میں گزار سکے گا۔
ایک اور پیش گوئی ایک ایسے طریقے کے بارے میں ہے جِس سے لوگ چلنے یا دوڑنے جیسی اپنی سرگرمیوں کی توانائی سے اپنے گھروں یا دفتروں کے لیے بجلی یعنی پاور حاصل کر سکتے ہیں۔برنی کہتے ہیں کہ اِسے ’مائکرو الیکٹرانک جنریشن‘ کا نام یا اصطلاح سے جانا جاتا ہے۔
وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیسری دنیا میں کسی شخص کے پاس ٹیلی فون تو ہے، لیکن اُس کی رسائی پاور گرڈ تک نہیں۔ جو، کافی عام سی بات ہے۔ لیکن، سچ مچ ایک جوتے کے اندر ایک ایسی چیز بنائی جاسکتی ہے جو چلنے کے عمل کے دوران اتنی توانائی کا پتا دیتی ہے جِس سے ایک بیٹری کو چارج کیا جا سکتا ہے۔ اور اِس شخص کو باقی دنیا سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور پیش گوئی کے مطابق ہمارے ’پاس ورڈس‘ بہت جلد قصہٴ پارینہ ہونے والے ہیں۔IBMکا کہنا ہے کہ ’بایومیٹرکس تیکنالوجی‘ میں ہونے والی پیش رفت سے پاس ورڈس غیر ضروری ہوجائیں گے۔
انتہائی عام ’بایو میٹرکس‘ میں سے انسانوں کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والی چیزیں فنگر پنٹس، چہرہ اور آواز کی پہچان اور پُتلی کی اسکیننگ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ تیکنالوجی جلد ہی رقم حاصل کرنے والی مشینوں یعنی ATMمشینوں اور دوسری چیزوں کے لیے استعمال ہونے لگے گی۔

Saturday, December 31, 2011

 sorce voa urdu

انٹارکٹیکا کےتیزی سے پگھلتےگلیشئر

مغربی انٹارکٹیکا کے اس علاقے میں برف کے پگھلنے سے گزشتہ چند برسوں میں سمندر کی سطح میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے: ماہرین
فوٹو ASSOCIATED PRESS
انٹارکٹیکا
سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم دسمبر کے وسط میں انٹارکٹیکا جا رہی ہے جہاں وہ بر اعظم  میں گلیشئر کی  تیزی سے پگھلتی ہوئی برف کے بارے میں جائزہ لےگی۔
سائنسداں  برف کے ایک ٹکڑے پر اپنا کیمپ قائم کریں گے جو امریکہ کے  McMurdo ریسرچ سٹیشن سے 2600 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ ان کی اس ریسرچ اور مشاہدے سے مدد مل سکے گی کہ آب وہوا کی تبدیلی سے انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کے بارے میں درست انداز میں پیشگوئی کرنا ممکن ہو گا۔ اور، برف پگھلنے کے نتیجے میں آنے والی صدیوں  میں  عالمی سطح پر سطح آب میں اضافہ ہو گا۔
اس سائنسی مہم کا ہدف پائن آئی لینڈ گلیشئر ہے جس کی چوڑائی2300مربع میٹر اور یہ 500میٹر گہرا ہے ۔
مغربی انٹارکٹیکا کے اس علاقے میں برف کے پگھلنے سے گزشتہ چند برسوں میں سمندر کی سطح میں سات  فیصد اضافہ ہوا ہے۔یہ بات ناسا کے ماہر اور ٹیم لیڈر  نے بتائی ۔ وہ گلیشیئر ز کے ماہر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انٹارکٹیکا میں برف پگھل رہی ہے اور سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں جانا ہے ۔اور اس سلسلے میں ہم نے پائن آئی لینڈ گلیشیئر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ تیزی سے حرکت کرنے والا گلیشیئر ہے۔ اور یہی وہ گلیشیئر ہے جس کی برف سطح  سمندرکے نیچے تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اور ہمارے اندازے کے مطابق بعض مقامات پر ہرسال 100میٹر سے زائد برف پگھل جاتی ہے اور یہ شرح بے حد زیادہ ہے۔
اس مہم کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آخر یہاں ہو کیا رہا ہے۔ بنڈ شیڈلر کہتے ہیں برف کے پگھلنے کی وجہ ہوا ۔ پانی اور برف کا باہمی امتزاج ہے جبکہ برف کی تہ کے نیچے خلا سےحرارت اٹھتی ہے۔ٹیم کو اب یہ معلوم کرنا ہے کہ برف کی تہ کے نیچے موجود خلا کی شکل کیسی ہے۔          
بنڈ شیڈلر کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی تفصیل معلوم نہیں  اور ہم اپنے مشاہدے اور تجربے سے یہی معلوم کریں گے۔
سیٹلائیٹس گلیشیئر کی پیمائش کرتے ہوئے اس کی حرکت کو بھی نوٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ برف کی تہ کے نیچے ہونے والی تبدیلی
 پتہ نہیں چلا سکے۔
بنیادی طور پر اس طریقے کے تحت اس 500میٹر  موٹے برف کے شیلف میں 27سینٹی میٹر حجم کا ایک سوراخ بنایا جائیگا  اور اس کے لئے پمپ کے ذریعے گرم پانی استعمال ہو گا۔ ایک طرح سے یہ انتہائی بنیادی طریقہ ہے لیکن اس کے لئے شدید محنت درکار ہے۔اسے برف کے اندر دور تک پہنچانے کے لئے ہلکا اور پورٹیبل ہونا چاہئے۔
جب ڈرل پانی کی تہ تک پہنچ جاتی ہے تو پھر سائنسدان ایک کیمرہ نیچے بھیجیں گے  جو برف کی تہ کے نیچے کی صورتحال کا مشاہدہ کرے گا اور  اسے سیل کر دیگا۔ Stanton کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم پروفائلر نامی ایک آلہ بھی نصب کریگی جو ایک کیبل کی مدد سے اوپر نیچے حرکت کر سکتی ہے اور برف کے نیچے اور سمندر کی تہ سے اوپر کے  درجہ حرارت۔سیلن اور بہاو  کا تعین کر سکتی ہے۔
اور پھر گہرائی میں سنسروں اور altimeter کی مدد سے برف کے پگھلنے کی رفتار کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

پائن آئی لینڈ گلیشیر پر موجود کیمپ ضرورت کے لئے توانائی ہوا  کی مدد سے چلنے والے جنریٹر ۔ شمسی پینل  اور  بیٹریاں استعمال کرے گا۔ اور سان ڈئیگو میں ان کے سکول میں موجود ان کے ساتھیوں سے رابطہ استوار رکھنے میں مدد  ملے گی۔
اور سٹینٹن کے مطابق برف کے پگھلنے کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کی حکمت عملیمیں تبدیلی کر نا ممکن رہے گا۔ پائن آئی لینڈ گلیشیر کی اس مہم کے لئے نیشنل سائنس فاونڈیشن اور امریکہ کے خلائی ادارے  ناسا نے فنڈز فراہم کئے ہیںٕ۔ سمندر کے ماہر Timothy Stanton نے کہا ہے کہ اس تحقیق سے برف کے پگھلنے کی شرح  اور ہمارے سیارے پر تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کا علم ہو سکے گا۔

Monday, December 26, 2011

آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش

نظریہ اضافیت کے بانی ڈاکٹر آئن سٹائن ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جدید سائنس کے افق پر جگما رہے ہیں۔ انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس دان سمجھا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 1955ء میں ہوا تھا، جس کے بعد پہلی بار ان کادماغ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹائن کا دماغ عام انسانی دماغ سے قدرے مختلف ہے۔

البرٹ آئن سٹائن زندگی بھر کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور توانائی اور مادے کے تعلق کی گتھیاں سلجھانے کا سوچتے رہے، مگر اس دوران شاید انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک روز ان کا دماغ نمائش کے لیے رکھا جائے گا اور لوگ حیرت سے اسے دیکھ کر سوچیں گے کہ یہی ہے وہ دماغ جس نے ایٹم توڑ کر توانائی حاصل کرنے کانظریہ پیش کیا تھا اور جس نے کہا تھا کہ کائنات کی کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔
جدید طبیعاتی سائنس کی بنیاد آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر قائم ہے، مگر چند ماہ قبل یورپ میں قائم جوہری طبیعات کی دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین تجربہ گاہ میں  یہ نظریہ باطل ہوچکاہے اور روشنی سے بھی تیزرفتار ذرات نیوٹرینو دریافت کرلیے گئے ہیں۔
ان دنوں امریکی شہر فلاڈلفیا کے مووٹرمیوزیم اینڈ ہسٹاریکل میڈیکل لیبارٹری میں آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش جاری ہے۔ اس نمائش میں ان کے دماغ  کو46 ٹکڑوں کی شکل میں سلائیڈوں پر پیش کیا گیا ہے۔ 20 ویں صدی کے اس عظیم ترین سائنس دان کے دماغ کی یہ پہلی نمائش ہے۔
عجائب گھر کی کیوریٹر اینا ڈوڈی کا کہناہے کہ میوزیم میں آنے والے دماغ کی 45 سلائیڈوں کو اپنی اصلی حالت میں دیکھ سکتے ہیں جب کہ ایک سلائیڈ کو خردبینی عدسے کے ذریعے بڑا کرکے دکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

آئن سٹائن کا انتقال 1955ء میں 76 سال کی عمر میں ہواتھا۔ موت کے اسباب کا پتا لگانے کے لیے ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے ان کا پوسٹ مارٹم کیاتھا۔اس دوران ڈاکٹر نے ان کا دماغ بھی معائنہ کے لیے باہر نکالا مگر وہ اسے دوبارہ کھوپڑی کے اندر رکھنے میں ناکام رہے اور انہوں نے دماغ کو اپنے ہی پاس رکھ لیا۔ ڈاکٹر ہاروے نے دعویٰ کیا تھا کہ آئن سٹائن کے بیٹے نے انہیں دماغ لے جانے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اس پر کھڑے ہونے والے تنازع میں ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے، مگر عظیم سائنس دان کا دماغ انہی کی تحویل میں رہا۔
ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ابتدائی  تحقیق سے پتا چلا کہ دماغ کے دونوں حصوں کو ڈھاپنے والی مخصوص تہہ موجود نہیں تھی اور دماغ کے خلیوں کا حفاظتی حصہ بھی نمایاں طورپر بڑا تھا۔ گویا آئن سٹائن کا دماغ عام افراد سے کچھ مختلف تھا۔
اس واقعہ کے کئی سال کے بعد ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے آئن سٹائن کے دماغ کے کچھ حصے مزید تحقیق کے لیے نیورو سائنس دانوں کو بجھوائےتا کہ وہ یہ جائزہ لیں کہ دماغ کے کس حصے نے  انہیں 20 ویں صدی کا ذہین ترین سائنس دان بنانے میں مدد دی تھی۔
تفصیلی معائنے  اور متعدد تجربات سے گذرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ آئن سٹائن کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بول چال اور زبان سے ہوتا ہے، نسبتاً چھوٹے تھے ، جب کہ ریاضی اور سوچ بچار سے متعلق حصے ایک نارمل دماغ کی نسبت15 فی صد بڑے  تھے ۔ اس کے علاوہ نیوران، یعنی تمام دماغی امور انجام دینے والے خلیوں کے  گرد مخصوص حفاظتی تہہ ’  گلیال ‘ بھی عام افراد کی نسبت بڑی تھی۔

1999ء میں کینیڈا کے شہر ہملٹن  میں واقع مک ماسٹر یونیوسٹی میں دماغی  امور کے ماہرین کی ایک اور ٹیم کوتفصیلی معائنے سے پتا چلا کہ آئن سٹائن کے دماغ کے سامنے کے حصے  میں ایک خلا موجود تھا۔ ماہرین نے اندازہ لگایا کہ اس خلاکے باعث اس حصے میں واقع نیوران کی کاررکردگی نمایاں طور پر بہتر بنانے میں مدد ملی ۔اور اسی لیے ان کی سوچ ایک عام آدمی سے مختلف تھی۔ آئن سٹائن کا خود بھی یہ کہناتھا کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں ،اسے تصور کی آنکھ سے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹا ئن کے دماغ کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان کا انتقال 76 سال کی عمر میں ہواتھا مگردماغ کی ساخت دیکھ کرایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی نوجوان شخص کا دماغ ہو۔
ڈاکٹر ٹامس ہاورے نے چونکہ اپنی تربیت کے دوران کچھ وقت فلاڈلفیا کی اسی لیبارٹری میں گذارا تھا۔ اس لیے انہوں نے دماغ پر تحقیق کے لیے  اس میڈیکل میوزیم کے ایک ماہر ولیم ایریچ   سے رابطہ کرکے  اس کی 46 سلائیڈز بنوائیں۔ ہر سلائیڈ  کی موٹائی انسانی بال سے بھی کم تھی۔ جنہیں انہوں نے  ایک خصوصی بکس میں محفوظ کرلیا۔

سلائیڈیں بننے کے بعد آئن سٹائن کے دماغ کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔  کچھ عرصہ یہ سلائیڈیں ولیم ایریچ کے پاس رہیں۔ 1967ء میں ایریچ کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے وہ بکس ایک  اور ڈاکٹر ایلن سٹائن برگ کے حوالے کردیا۔  جنہوں نے مزید تحقیق کے لیے اسے  فلاڈلفیا کے چلڈرن ہاسپٹل کے نیوروسرجن ڈاکٹر لکی رورک ایڈمز کو دے دیا۔
ڈاکٹر ایڈمز نے اپنی تحقیق مکمل کرنے کے بعدحال ہی میں آئن سٹائن کے دماغ کی سلائیڈوں کا مکمل سیٹ مووٹر میوزیم کو عطیہ میں دیا ہے۔لائیو سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایڈمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آئن سٹائن کے دماغ کو میڈیکل سائنس کی تاریخ کے ایک اہم حصے کے طور پر مووٹر میوزیم  میں رکھ دیا جائے۔
میڈیکل ہسٹری میوزیم کی عہدے دار ڈورڈی کا کہناہے کہ کچھ عرصے تک  آئن سٹائن کے دماغ کی  نمائش اسی عجائب گھر میں جاری رہے گی، بعد میں  دوسرے عجائب گھروں میں  اسے نمائش کے لیے بھیجا جائے گا۔


Saturday, December 24, 2011

SOURCE:VOA URDU

بھوتوں کی سائنسی حقیقت

دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھوتوں کی موجودگی پر یقین رکھتی ہے ، لیکن بھوتوں کی ماہیت اور کردار پر ان کے نظریات مختلف ہیں۔ کئی مغربی ممالک میں ان کا پتا چلانے کے لیے جدید سائنسی آلات استعمال کیے جاتے ہیں ۔ جب کہ سائنس دان بھوتوں کی ایک مختلف توجیح پیش کرتے ہیں۔
کیا آپ بھوت پکڑنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
دنیا کے تقریباً ہرحصے میں ایسے عامل اور ماہر موجود ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بھوتوں کو پکڑ سکتے ہیں اور انہیں بھاگنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان دعوؤں کی حمایت اور مخالفت میں بہت کچھ کہا جاتا ہے اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جویہ خواہش کرتے ہیں کہ الہ دین کے چراغ کے جن کی طرح ان کے قبضے میں بھی کوئی جن بھوت آجائے اور ان کی زندگی آسان ہوجائے۔
سوال یہ ہے کہ بھوت کیا کچھ کرسکتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس دنیا میں ان کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے بھوتوں پر پر یقین رکھنے والوں کی تعداد نمایاں طورپر زیاد ہے۔ پس ماندہ معاشروں کی تو بات ہی چھوڑئیے،  ترقی یافتہ ممالک میں بھوتوں کی موجودگی پر یقین کرنے والے اکثریت میں ہیں۔  امریکہ میں تو ہرسال اکتوبر کے آخر میں ہالووین کے نام سے  بھوتوں اور روحوں کو خوش کرنے کا دن بھی منایا جاتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ میں پرانے اور پیچیدہ مقدمات سے متعلق  ٹیلی ویژن چینل پر  دکھائی جانے والی متعدد رپورٹوں میں پولیس بعض دفعہ اندھے جرائم کے مجرموں تک پہنچنے کے لیے عالموں کے ذریعے بھوتوں کی مدد بھی حاصل کرتی ہے۔
مشرق اور مغرب میں بھوتوں پر الگ الگ نظریات اور تصورات پائے جاتے ہیں۔ کچھ عقائد میں انہیں ایک علیحدہ مخلوق کے طورپر دیکھا جاتا ہے، مثلاً جن وغیرہ،  جب کہ مغرب میں اکثر کا یہ خیال ہے کہ  بھوت انسانوں اور حیوانوں کی بھٹکی ہوئی روحیں ہیں۔ ہم اس مضمون میں روحوں کے نظریے پر ہی بات کریں گے۔
بھوتوں کا نظریہ یہ اتنا ہی پرانا جتنا کہ انسانی تاریخ۔ کئی قبل از تاریخ کھنڈرات اور قدیم غاروں کی دیواروں پر بنی تصویریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اپنے شعور کے ابتدائی دور میں بھی انسان بھوتوں پر یقین رکھتا تھا۔
دنیا بھر میں ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو انہیں دیکھنے، یا ان سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بھوتوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

بھوتوں پر ہالی وڈ کی کئی کامیاب فلمیں ریلز ہوچکی ہیں اور امریکہ اور یورپ میں ان پر کئی مشہور ٹی ویژن سیریل دکھائے جاچکے ہیں۔ لیکن بھوتوں سے متعلق علوم کے ماہرین کا کہناہے کہ ٹیلی ویژن اور فلموں میں بھوتوں کو ڈراونے انداز میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ بھوتوں کی اکثریت صلح پسند ہوتی ہے۔اور وہ نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔
مغربی دنیا میں بھوتوں کے اکثر عامل پیرا سائیکالوجی کے ماہر کہلاتے ہیں۔ ایک عامل جان کاکوبا نے اپنی کتاب ’گوسٹ ہنٹرز‘ میں لکھا ہے کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت بھوتوں کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔ جس کے مطابق توانائی کو فنا نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ روح توانائی کی ایک قسم ہے، جو برقی مقناطیسی قوت کی صورت میں جسم میں رہتی ہے۔ جسم مرجاتا ہے لیکن روح نہیں مرتی، کیونکہ وہ ایک توانائی ہے۔ جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح جسم مٹی کے ساتھ مل کرمٹی ہوجاتاہے، اسی طرح جسم میں موجود توانائی حرارت میں تبدیل ہوکر فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے۔
پیرا سائیکالوجی کےاکثر ماہرین جان کاکوبا کے ہی نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔
انسان کاجسمانی نظام بجلی پر کام کرتا ہے جو جسم کے اندر ہی پیدا ہوتی ہے۔ مخصوص کیمروں کے ذریعے جسم سے خارج ہونے والی خفیف برقی لہروں کی تصویر اتاری جاسکتی ہے۔ عاملوں کا کہناہے جسم کی موت کے بعد یہ برقی توانائی یا روح دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے، لیکن جو افراد مرتے وقت انتقام یا محبت کے شدید ترین جذبات کی کیفیت سے گذر رہے ہوتے ہیں، ان کی روحیں اپنے مقصد کی تکمیل تک دنیا میں ہی رک جاتی ہیں، جو بھوت بن جاتی ہیں۔

صرف انسانی روحیں ہی بھوت کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ کئی گھریلو پالتو جانور، مثلاً ایسے کتوں اور بلیوں کی روحیں بھی ان کے مرنے کے بعد بھوت بن جاتی ہیں جنہیں اپنے مالکوں سے شدید محبت ہوتی ہے یا وہ کوئی خاص انتقام لینا چاہتی ہیں۔  یہ روحیں اکثر اپنے مالکوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔
اکثر عاملوں کا کہنا ہے کہ بھوت از خود کچھ نہیں کرسکتے۔ انہیں اپنا مشن مکمل کرنے کے لیے انسانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مدد کے لیے ہمارے اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ جب ان کا کام پورا ہوجاتا ہے تو باقی روحوں کی طرح  وہ بھی دوسری دنیا میں چلے جاتے ہیں۔
پیرا سائیکالوجی  کے ماہرین  کا کہنا ہے کہ بعض انسانوں کا جسمانی برقی مقناطیسی نظام بہت توانا ہوتا ہے یا وہ مشق کے ذریعے وہ اپنی یہ قوت اتنی زیادہ بڑھا لیتے ہیں کہ دوسروں کی سوچ اور خیالات پر اثرانداز ہونے کے قابل ہوجاتے ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کے ماہرین ہیں۔  لیکن جب کسی غلطی کی وجہ  سے وہ اپنی مقناطیسی لہروں کو کنٹرول نہیں کرپاتے تو وہ توانائی بھی بھوت کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔

پیرا سائیکالوجی کے ان ماہرین کو اپنے نظریے پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ بھوت پکڑنے کے لیے سائنسی آلات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً قطب نما، برقی مقناطیسی لہروں کا کھوج لگانے والے میٹر،  حرارت اور توانائی کی لہروں کی تصویر اتارنے والے کیمرے، اور مخصوص قسم کے سکینر وغیرہ،  لیکن وہ اپنا یہ ٹریڈ سیکریٹ نہیں بتاتے کہ وہ کس طرح بھوتوں سے ہم کلام ہوتے ہیں۔
بھوتوں کی تصویریں اور ویڈیوز بڑی تعداد میں یوٹیوب اور انٹرنیٹ کی کئی سائٹس پر موجود ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کے مخصوص مقناطیسی میدان، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بعض مقامات پر ایسے چھوٹے چھوٹے برقی دائرے بن جاتے ہیں، جو الیکٹرانک آلات پر بھوت کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
بھوتوں سے منسوب زیادہ تر واقعات قدیم اور متروک عمارتوں، کھنڈرات، اجاڑ اور ویران جگہوں، نیم تاریک اور ٹھنڈے مقامات پر رونما ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اور اسی طرح کے اور بھی کئی ایسے سوالات ہیں جن کا ابھی تک پیرا سائیکالوجی کے ماہرین اور سائنس دانوں کے پاس کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے۔



SORCE:BBC URDU

زمین کا ’جڑواں‘ سیارہ دریافت

کیپلر 22 زمین سے چھ سو نوری سال کے فاصلے پر ہے
ناسا کے ماہرین فلکیات نے ایک سیارے کی تصدیق کی ہے جو ایسے مدار میں گردش کرتا ہے جو ’ قابل رہائش‘ تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین فلکیات اس سیارے کو زمین کا ’جڑواں‘ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے زمین سے اتنا مشابہہ سیارہ دریافت نہیں ہوا ہے۔
ناسا کےماہرین فلکیات کے مطابق کیپلر 22 بی نامی سیارہ زمین سے چھ سو نوری سال کے فاصلے پر ہے اور اور اس کا حجم زمین سے دو اعشاریہ چار فیصد بڑا ہے۔
لیکن ماہرین کو ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سیارہ چٹانوں،گیس اور پانی پر مشتمل ہے یا نہیں ۔
ناسا کی کانفرنس میں جہاں اس سیارے کی دریافت کے بارے میں اعلان کیا گیا وہیں ایک ہزار چورانوے نئے ’امیدوار‘ سیاروں کا پتہ لگانے کا دعویٰ کیا گیا۔
’کیپلر 22 اپنے سورج سے زمین کی نسبت پندرہ فیصد کم فاصلے پر ہے اور اس کا سال 290 دنوں کا ہے۔ لیکن کیپلر 22 کا سورج اسے زمین کے سورج کی نسبت 25 فیصد کم حرارت مہیا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیپلر 22 کا درجہ حرارت بائیس سیلسیس ہے جو خوشگوار موسم اور معائع پانی کی موجودگی کا اشارہ دیتا ہے۔
ناسا کے ایمس ریسرچ سنٹر کے ولیم بوراکی نے کہا کہ قسمت ہم پر مہربان ہوئی ہے اور ہم نے یہ سیارہ دریافت کرلیا ہے