PRAYER TIMES PARIS
Showing posts with label مضامین. Show all posts
Showing posts with label مضامین. Show all posts
Thursday, October 11, 2012
وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے۔
وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
Sunday, September 16, 2012
جنگ 1971: حقیقتیں اور افسانے
نام کتاب: ڈیڈ ریکوننگ، میموریز آف دی 1971 بنگلہ دیش وار
(شمارِ کُشتگاں، جنگ 71
ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900
سرمیلا بوس کی یہ کتاب ان تمام باتوں کی تردید کرتی ہے جو اب تک 1971 کی جنگ کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں نہ تو اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے، نہ ہی بے حرمتیوں کا تناسب بیان کے مطابق تھا اور نہ ہی یہ کہ تشدد صرف پاکستانی فوجیوں نے کیا تھا۔
سرمیلا کہتی ہیں کہ انھیں 1971 کی جنگ کے حوالے سے جو دستاویزات دیکھنے کو ملیں وہ اتنی کمزور تھیں کہ ان کی بنیاد پر کوئی دعویٰ کرنا کسی طرح دانشمندی نہیں۔
وہ پاکستانی فوج پر الزامات کی صفائی تو پیش نہیں کرتیں لیکن یہ اصرار ضرور کرتی ہے کہ پاکستانی فوج پر نسل کشی، جنسی زیادتیوں اور تشدد کے جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ آپریشن میں شریک تمام فوجیوں پر یکساں نہیں لگائے جا سکتے۔
ان کے اس موقف کے حق میں کتاب میں ایسے بنگالی مردوں اور عورتوں کے انٹرویو بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ پاکستانی فوج میں جو بلوچ تھے ان کا سلوک بنگالیوں سے اچھا تھا۔ ان انٹرویوز سے ایسا لگتا ہے کہ اس زمانے میں ’بلوچ‘ یا ’بلوچی‘ بنگالیوں کے لیے ایک ایسی اصطلاح بن گئی تھی جس کے معنی تھے ’ اچھا یا تحفظ دینے والا فوجی‘۔
سرمیلا بوس آپریشن اور جنگ کے دوران ہونے والے پروپیگنڈے اور افواہوں کا بھی ذکر کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ ڈھاکہ میں 14 اور 15 دسمبر کو آزادی کی حامی بنگالی دانشوروں کو ان کے گھروں سے اغوا کیے جانے اور بعد میں قتل کیے جانے میں بھی پاکستانی فوج کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس سلسلے میں انھوں نے نہ صرف پاکستانی فوجی افسروں کے تردیدی بیانات نقل کیے ہیں بلکہ مارے جانے والے دانشوروں کے خاندانوں کے وہ بیانات بھی پیش کیے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو گھروں سے لے جانے والے وہ مسلح سویلین تھے جو فوج کی حمایت کر رہے تھے۔ وہ ’البدر‘ کا نام لیتے ہیں۔ جو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نوجوانون رضاکاروں کی تنظیم تھی اور بنگالیوں پر ہی مشتمل تھی۔
اسی طرح وہ 26-25 مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے ویمن ہاسٹل پر پاکستانی فوجی حملے کا ذکر کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ خبر اڑی لیکن درست ثابت نہ ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ یکم اپریل کو جیسور میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں بنگالیوں کے قتل کی عالمی ذرائع ابلاغ سے بھی سامنے آئی لیکن حقیقت یہ تھی کہ جیسور میں آزادی کے حامی بنگالیوں نے مغربی پاکستانیوں کو مارا تھا۔ وہ ایسے کئی واقعات کی مثالیں دیتی ہیں۔
مصنفہ: سرمیلا بوس
ان کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے حامی بنگالی مغربی پاکستانی فوجیوں کو انویڈر یا درانداز کہتے تھے جبکہ اس جنگ میں درانداز صرف ہندوستان تھا۔
سرمیلا نے جو بیش تر حوالے دیے ہیں وہ مختلف لوگوں کے انٹرویو ہیں۔ یہ انٹرویو دینے والے پاکستانی بھی ہیں اور بنگالی بھی۔ اس کے علاوہ وہ ان خبروں اور مضامین پر بھی انحصار کرتی ہیں جو جنگ کے دوران اور بعد میں، جنگ کے حوالے سے بنگلہ دیش، ہندستان اور پاکستان میں شائع ہوئے۔ پھر کتاب میں حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کے حوالے بھی ہیں۔ یہ رپورٹ جنگ کے بعد پاکستان میں ایک تحقیقاتی کمیشن نے تیار کی تھی لیکن پاکستان ہی میں اسے ایک عرصے تک شائع نہیں کیا گیا اور پاکستان میں ایسے حلقے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس کمیشن کی رپورٹ اب من و عن سامنے نہیں آئی اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جس نوع کا پاور سٹرکچر ہے اس میں فوج اور اس کے اقدام کے حوالے سے کوئی غیرجانبدار تحقیق کی نہیں جا سکتی۔
سرمیلا نے اس کتاب کی تیاری میں ایک عرصہ صرف کیا ہے۔ میں نے اس حوالے سے ان کا ایک مضمون سب سے پہلے ہندوستان کے ایک انتہائی معتبر رسالے اکنامک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں پڑھا تھا۔ یہ مضمون اکتوبر 2005 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں بھی انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ’ہر چند کہ 1971 کا تنازع پاکستان اور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کا انتہائی جذباتی معاملہ ہے، لیکن نو ماہ تک جاری رہنے والی اس خانہ جنگی کا اب تک ایسا منظم مطالعہ نہیں کیا گیا جیسا کہ کیا جانا چاہیے۔ اب تک عام طریقہ یہ رہا ہے کہ اس تنازع میں زیادہ توجہ بنگالیوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں پر دی جاتی ہے یا اسے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بہرطور، مشرقی پاکستان 1971 میں ایک ایسا میدان جنگ تھا جس میں کئی متشدد فریق ایک ساتھ سرگرمِ عمل تھے، ان میں شدت پسند باغی بھی تھے، تشدد پر آمادہ ہجوم بھی، شہریوں کے خلاف فوجی آپریشن بھی کیا جا رہا تھا اور ایسی شہری دہشت گردی بھی جاری تھی، جو ہندستان اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔ 1971 کے تنازعے میں تشدد کی اسی ثقافت نے بعد میں بنگلہ دیش کی تاریخ کے بیش تر تناظر کو شکل دی۔ 1971 کے تنازعے کو سمجھنے کے لیے ایک ایسا طریقہ انتہائی اہم ہے جس میں پوری احتیاط سے کام لیا جائے اور جو شہادتوں پر مبنی ہو لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب تنازعے کے تمام فریق کسی طور ہم آہنگ ہو جائیں‘۔
سرمیلا برصغیر کے معروف رہنما سبھاش چندر بوس کی پوتی ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کولکتہ میں حاصل کی اور ہاورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ لی اور اب اوکسفرڈ یونیورسٹی سے بطور سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ وابستہ ہیں۔
سرمیلا کی یہ کتاب پاکستان میں بے لگام قوم پرستانہ جذبات رکھنے والوں اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے خوشی کا باعث ہو گی کیونکہ سرمیلا بوس ایک بنگالی ہیں، ہندوستانی ہیں اور ہندو بھی اور ان کی ان شناخت پر کوئی بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ یہی بات ہندوستان اور بنگلہ دیش کے ان لوگوں کو ضرور مشتعل کرے گی جو قوم پرستی کا کاروبار کرتے ہیں یا وہ جو تاریخ کے مقبول سیاسی بیانیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
کتاب کے سلسلے میں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ سرمیلا نے جن شواہد کو بنیاد بنایا ہے، کیا انھیں تاریخی شواہد کہاجا سکتا ہے؟
Friday, August 3, 2012
Saturday, July 14, 2012
Saturday, July 7, 2012
Friday, July 6, 2012
Friday, June 29, 2012
Sunday, June 17, 2012
Saturday, June 16, 2012
sourc voa
بجلی کہاں گئی ؟
ان دنوں بجلی گرڈ سٹیشنوں اور تاروں میں نہیں ہے، لوگوں کے جذبات میں ہے۔ جب پنکھے نہیں چلتے اور بلب نہیں جلتے تو وہ سڑکوں پر آ ٹائر جلانے لگتے ہیں۔مگر ٹائر جلنے سے دھواں پیدا ہوتا ہے بجلی نہیں ۔
More Sharing Services
بجلی کہاں گئی؟ اس چھوٹے سے سیدھے سادھے سوال کے درجنوں ٹیڑھے اور الجھے ہوئے جواب دیے جاتے ہیں اور اکثر جواب ایسے ہوتے ہیں کہ سننے والا چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پرجاکر نعرے لگانے لگتاہے۔
بجلی کہیں نہیں گئی۔ وہ اب بھی اس کی اتنی مقدار میں موجود ہے کہ ملک کی ساری ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 20 ہزار میگاواٹ سے زیادہ اور طلب 17 ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ ہے۔مگر چونکہ مانگ کے مطابق بجلی پیدا نہیں کی جارہی اس لیے ملک کے کئی حصوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹوں تک اس کی فراہمی بند رہتی ہے۔
پاکستان میں بجلی حاصل کرنے کے تین اہم ذریعے ہیں، پانی، تیل اور گیس اور جوہری توانائی۔ اگر پن بجلی گھر اپنی پوری استعطاعت پر کام کریں تو چھ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی حاصل ہوسکتی ہے لیکن پانی کی کمی، اور فنی خرابیوں کے باعث اس کی پیداوار آدھی سے بھی کم ہے ۔ جس سے تھرمل بجلی گھروں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہاہےاور کل پیداوار میں اس کا حصہ کئی بار70 فی صد تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنا انتہائی مہنگا پڑرہاہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنا اور روپے کی قدر مسلسل کم ہونا۔ ایک اندازے کے مطابق ان دنوں تیل سےپیدا کی جانے والی بجلی کے ایک یونٹ پر 20 روپے کے لگ بھگ خرچ آرہاہے ۔ جب کہ اس کو بیچا جاتا ہے کہیں کم قیمت پر۔ اور یہ فرق چکانا پڑتا ہے حکومت کو سرکاری خزانے سے۔
ماہرین کا کہناہے کہ بجلی کی کل ضرورت کا ایک تہائی سے زیادہ تھرمل پاور پر انحصار معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتاہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ ملک پیداواری لاگت میں کمی کی خاطر پانی، کوئلہ ، گیس ،تیل ، نیوکلیئر اور متبادل ذرائع سے ملاجلا کر بجلی پیدا کرتے ہیں اور تھرمل پاور پر زیادہ دباؤ نہیں پڑنے دیتے۔ جب کہ پاکستان میں صورت حال اس کے الٹ ہے۔
مشرف حکومت نے اپنے آخری سال میں بعض دوسرے اخراجات کے لیے پرائیویٹ اور سرکاری تھرمل پاور یونٹوں کو سرمائے کی فراہمی روک دی تھی۔ موجودہ دور میں بھی انہیں پوری ادائیگیاں نہیں کی جارہیں جس ے میڈیا رپورٹس یہ بقایاجات چارسو ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ جب پیسے نہیں ملتے تو آئل کمپنیاں تیل اورپرائیویٹ بجلی گھر اپنے جنریٹر بند کردیتے ہیں۔
پانی سے بجلی کوڑیوں کے مول پڑتی ہے۔ مگر مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان میں آبی منصوبوں پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ کالا باغ کے علاوہ بھی ایسے کئی علاقوں کی نشاندہی ہوچکی ہے جہاں سےپن بجلی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح پنجاب میں، جہاں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے، چھوٹےپیمانے اور مقامی سطح پر بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔معاشی ترقی اور سستی بجلی کےلیے آبی وسائل کے استعمال پر اعتماد سازی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
کوئلے سے بجلی کا حصول بھی نسبتاً سستا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اگرچہ کوئلہ معیاری نہیں ہے لیکن پاکستانی سائنس دانوں نے اسے براہ راست گیس میں بدل کر بجلی بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔اس منصوبے کی حمایت اور مخالفت کے باوجود مستقبل میں اس قدرتی ذخیرے سے بڑے پیمانے پر بجلی حاصل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
پاکستان میں کئی تھرمل یونٹ قدرتی گیس سے چلائے جارہے ہیں مگر گیس پر مختلف شعبوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ اور طویل عرصے سے نئے ذخائر کی تلاش پر سنجیدگی سے توجہ نہ دینے کے باعث گیس کا بھی بحران پیدا ہوچکاہے۔ ان دنوں بیرونی ممالک سے گیس کی درآمد کے منصوبوں پر زیادہ دھیان دیا جارہاہے، لیکن سستی بجلی کے لیے مقامی وسائل کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔
جوہری بجلی بھی تھرمل پاور سے سستی ہوتی ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت دوجوہری بجلی گھر ہیں جن سے کل ملکی پیداوار کا محض دو فی صد حاصل ہورہاہے۔حکومت 2030ء تک ساڑھے آٹھ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی جوہری پلانٹس سے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن دوسری جانب دنیا بھر جوہری بجلی گھروں کی تنصیب پر مسلسل بڑھتے ہوئے تحفظات ان منصوبوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کے طویل ساحلی اور صحرائی علاقوں میں ہوائی چکی(ونڈ ملز) لگانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح ملک کے میدانی علاقوں میں سارا سال سورج چمکتا ہےجس سے بڑی مقدار میں شمسی توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ توانائی کے یہ متبادل ذرائع چھوٹے پیمانے پر دیہاتوں اور قصبوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردا ر ادا کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کم ازکم پانچ ہزار دیہاتوں کو ہزاروں میل لمبی تاریں بچھائے بغیر ونڈملز کے ذریعے مقامی طور پرسستی بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کرائے کے بجلی گھر وں کا منصوبہ شروع کیاتھا۔ لیکن کئی حلقوں نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیل سے چلنے والے پرانے جنریٹر اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کریں گے، کیونکہ تھرمل پاور یونٹ تیل کی کمی کے باعث ہی اپنی استعداد کے مطابق نہیں چل رہے۔جب کہ اصل مسئلہ بجلی کی کمی کا نہیں بلکہ بجلی گھروں سے پوری پیدوار لینے میں ناکامی کا ہے۔
پاکستان میں بجلی کے مسئلے سے منسلک ایک اہم پہلو بڑے پیمانے پر بجلی کی چوری اور اس کی ترسیل میں خرابیاں ہیں جس کے سبب محتاط اندازوں کے مطابق 30 فی صدسے زیادہ بجلی ضائع ہوجاتی ہے۔ ان پر قابو پانے سے نہ صرف پیداواری اخراجات کم ہوں گے بلکہ مزید مالی وسائل بھی مہیا ہوسکیں گے۔
اصل مسئلہ بجلی کا نہیں ہے بلکہ تیل کمپنیوں اور پرائیویٹ بجلی گھروں کے اربوں روپے کے بقایاجات کاہے ۔ لیکن یہ ادائیگیاں بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں کیونکہ دنیا کا کوئی بھی ملک مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
Tuesday, May 8, 2012
قصہ’ شاہی ہندی‘ کا۔۔۔ اردو زبان کے نامور مستشرق ڈیوڈ میتھیوز کی زبانی
’میں دہلی کے ایک ریستوران میں گیا اور وہاں بیرے سے بات کرنا شروع کی۔ اُسے بڑی حیرت ہوئی اور اُس نے پوچھا کہ آپ نے ہندی کہاں سے سیکھی ؟ میں نےکہا کہ میں تو دلٍی کا پرانا پاپی ہوں ۔ ممکن ہے کہ دوران گفتگو میں نے فارسی اور عربی کے الفاظ بھی استعمال کیے ہوں ۔ خیر، اُس نے میری باتیں سن کر کہا کہ آپ تو بہت شاہی ہندی بولتے ہیں، جِس کا در اصل مطلب اردو تھا‘
ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز
پروفیسر ڈیوڈ میتھیوز نے ’لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز‘ میں چالیس برس تک اردو پڑھائی ہے۔ چند برس قبل وہ ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔
Monday, April 23, 2012
پاکستان میں نجی ایئر لائنز کے طیاروں کی جانچ پڑتال شروع
پاکستان میں سول ایوی ایشن حکام نے نجی فضائی کمپنیوں کے زیرِاستعمال مسافر طیاروں کے تفصیلی معائنے کا عمل پیر سے شروع کر دیا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ملک میں اس وقت تین نجی فضائی کمپنیاں ہیں جن کے فضائی بیڑے میں شامل تمام جہازوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بھوجا ائیر لائن کے طیاروں کا معائنہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد دیگر دو نجی فضائی کمپنیوں کو بھی اس عمل سے گزرنا ہو گا۔
’’یہ بڑی تفصیلی انسپیکشن ہوتی ہے اور تفصیلی معائنے کے بعد جہاز فضائی کمپنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد مرحلہ وار تمام جہازوں کی فنی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ طیاروں کے معائنے کے فیصلے کا مقصد مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور ان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ ’’ہمارا اولین مقصد محفوظ فضائی سفر ہے اور اس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔‘‘
پرویز جارج نے اس بارے میں قیاس آرائی سے گریز کیا کہ ملک میں سرگرم تینوں نجی ایئر لائن کمپنیوں کے جہازوں کے معائنے کا عمل کب تک مکمل ہو سکے گا۔ ’’یہ کہنا مشکل ہوگا کہ معائنہ کاروں کو ہر طیارے اور ان میں نصب نظام کی جانچ پڑتال کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔‘‘
اُنھوں نے بتایا کہ نجی ایئرلائنز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اندرون اور بیرون ملک پروازوں کے شیڈول میں مناسب رد و بدل کر لیں تاکہ مسافروں کو اس عمل کے دوران کوئی دقت پیش نہ آئے۔ پرویز جارج نے مزید کہا کہ قومی ایئرلائن ’پی آئی اے‘ کے طیارے اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ چند ماہ قبل اس عمل سے گزر چکے ہیں۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ نجی فضائی کمپنیوں کی پروازیں مکمل طور پر بند نہیں کی گئی ہیں۔
جمعہ کی شام کراچی سے اسلام آباد پہنچنے والا بھوجا ائیر کا بوئنگ 737 ہوائی اڈے سے محض چند کلومیڑ دور گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار 127 افراد ہلاک ہو گئے۔
اس مہلک حادثے کے دو روز بعد اتوار کو کراچی میں لینڈنگ کے دوران شاہین انٹرنیشنل کے زیر استعمال بوئنگ 737 کا ایک ٹائر پھٹ گیا مگر پائلٹ نے طیارے کو باحفاظت ہوائی اڈے پر اتار لیا اور اس میں سوار 172 مسافر محفوظ رہے۔
۔
اس کے چند گھنٹوں پر لاہور ائیر پورٹ پر بھی اسی ائیرلائن کے ایک مسافر طیارے کے فیول ٹینک میں گنجائش سے زائد ایندھن بھرنے کے باعث آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے ایران جانے والی یہ پرواز منسوخ کر دی گئی۔
ان تینوں واقعات کے بعد حکومت نے ملک کی نجی فضائی کمپنوں کے زیر استعمال تمام طیاروں کے مکمل فنی معائنے کا حکم جاری کیا اور پیر سے اس عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
ادھر دارالحکومت کے نواحی علاقے میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں مگر حکام نے ابھی تک کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں دی ہے۔ تفتیشی ٹیم کے سربراہ کپیٹن مجاہد الاسلام نے پیر کو جائے حادثہ کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا جائے گا۔
’’چاہے وہ تکنیکی پہلو ہو یا موسمی حالات ہر زاویے سے اس معاملے کو پرکھا جائے گا۔‘‘
گزشتہ دو سال کے دوران اسلام آباد کی فضائی حدود میں پیش آنے والا یہ دوسرا حادثہ تھا اس سے قبل جولائی 2010ء میں نجی کمپنی ’ایئر بُلو‘ کا ایک طیارہ وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بظاہر ائیر ٹریفک کنٹرول اور پائلٹ کے درمیان رابطے میں ابہام کو جہاز گرنے کی ایک بڑی وجہ بتایا گیا تھا۔
ائیر ٹریفک کنٹرول کے ملازمین کی تنظیم کے ترجمان آصف رسول نے وائس آف امریکہ سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا تھا کہ عالمی سطحی پر فضائی ٹریفک کو کنڑول کرنے والے ایک اہلکار کو ایک وقت میں تقریباً 26 پروازوں کو معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں ڈیوٹی پر تعینات اہلکار کو بیک وقت اوسطاً 50 پروازوں کے ساتھ رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کام کے زائد بوجھ کے علاوہ ائیر ٹریفک کنٹرول کے لیے دستیاب تکینکی سہولتیں بھی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ ترجمان نے اس تناظر میں فضائی حادثات کے رونما ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا تھا۔
فضائی ٹریفک کنڑول کی تنظیم کے مطالبات کے بعد حکومت نے ان کی تنخواہوں میں تو اضافہ کر دیا تھا لیکن ان کے محکمہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ابھی تک عملی اقدامات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ملک میں اس وقت تین نجی فضائی کمپنیاں ہیں جن کے فضائی بیڑے میں شامل تمام جہازوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بھوجا ائیر لائن کے طیاروں کا معائنہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد دیگر دو نجی فضائی کمپنیوں کو بھی اس عمل سے گزرنا ہو گا۔
’’یہ بڑی تفصیلی انسپیکشن ہوتی ہے اور تفصیلی معائنے کے بعد جہاز فضائی کمپنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد مرحلہ وار تمام جہازوں کی فنی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ طیاروں کے معائنے کے فیصلے کا مقصد مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور ان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ ’’ہمارا اولین مقصد محفوظ فضائی سفر ہے اور اس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔‘‘
پرویز جارج نے اس بارے میں قیاس آرائی سے گریز کیا کہ ملک میں سرگرم تینوں نجی ایئر لائن کمپنیوں کے جہازوں کے معائنے کا عمل کب تک مکمل ہو سکے گا۔ ’’یہ کہنا مشکل ہوگا کہ معائنہ کاروں کو ہر طیارے اور ان میں نصب نظام کی جانچ پڑتال کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔‘‘
اُنھوں نے بتایا کہ نجی ایئرلائنز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اندرون اور بیرون ملک پروازوں کے شیڈول میں مناسب رد و بدل کر لیں تاکہ مسافروں کو اس عمل کے دوران کوئی دقت پیش نہ آئے۔ پرویز جارج نے مزید کہا کہ قومی ایئرلائن ’پی آئی اے‘ کے طیارے اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ چند ماہ قبل اس عمل سے گزر چکے ہیں۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ نجی فضائی کمپنیوں کی پروازیں مکمل طور پر بند نہیں کی گئی ہیں۔
جمعہ کی شام کراچی سے اسلام آباد پہنچنے والا بھوجا ائیر کا بوئنگ 737 ہوائی اڈے سے محض چند کلومیڑ دور گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار 127 افراد ہلاک ہو گئے۔
اس مہلک حادثے کے دو روز بعد اتوار کو کراچی میں لینڈنگ کے دوران شاہین انٹرنیشنل کے زیر استعمال بوئنگ 737 کا ایک ٹائر پھٹ گیا مگر پائلٹ نے طیارے کو باحفاظت ہوائی اڈے پر اتار لیا اور اس میں سوار 172 مسافر محفوظ رہے۔
ان تینوں واقعات کے بعد حکومت نے ملک کی نجی فضائی کمپنوں کے زیر استعمال تمام طیاروں کے مکمل فنی معائنے کا حکم جاری کیا اور پیر سے اس عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
ادھر دارالحکومت کے نواحی علاقے میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں مگر حکام نے ابھی تک کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں دی ہے۔ تفتیشی ٹیم کے سربراہ کپیٹن مجاہد الاسلام نے پیر کو جائے حادثہ کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا جائے گا۔
’’چاہے وہ تکنیکی پہلو ہو یا موسمی حالات ہر زاویے سے اس معاملے کو پرکھا جائے گا۔‘‘
گزشتہ دو سال کے دوران اسلام آباد کی فضائی حدود میں پیش آنے والا یہ دوسرا حادثہ تھا اس سے قبل جولائی 2010ء میں نجی کمپنی ’ایئر بُلو‘ کا ایک طیارہ وفاقی دارالحکومت میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بظاہر ائیر ٹریفک کنٹرول اور پائلٹ کے درمیان رابطے میں ابہام کو جہاز گرنے کی ایک بڑی وجہ بتایا گیا تھا۔
ائیر ٹریفک کنٹرول کے ملازمین کی تنظیم کے ترجمان آصف رسول نے وائس آف امریکہ سے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا تھا کہ عالمی سطحی پر فضائی ٹریفک کو کنڑول کرنے والے ایک اہلکار کو ایک وقت میں تقریباً 26 پروازوں کو معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں ڈیوٹی پر تعینات اہلکار کو بیک وقت اوسطاً 50 پروازوں کے ساتھ رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کام کے زائد بوجھ کے علاوہ ائیر ٹریفک کنٹرول کے لیے دستیاب تکینکی سہولتیں بھی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ ترجمان نے اس تناظر میں فضائی حادثات کے رونما ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا تھا۔
فضائی ٹریفک کنڑول کی تنظیم کے مطالبات کے بعد حکومت نے ان کی تنخواہوں میں تو اضافہ کر دیا تھا لیکن ان کے محکمہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ابھی تک عملی اقدامات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
Saturday, April 21, 2012
خشک افریقہ کے نیچے پانی ہی پانی
افریقہ کے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا یہ سب سے تفصیلی جائزہ
ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک سالی کے لیے معروف براعظم افریقہ کے
نیچے زمینی پانی کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے
E codes ingredients
E codes are codes sometimes found on food labels in the European Union (GB, France, Germany, Spain, Italy, Portugal, etc.) The code indicates an ingredient which is some type of food additive. The E indicates that it is a "European Union approved" food additive.
If
you never saw one before, probably you don't live in the European Union. Other
countries have different food labelling laws. Even inside the EU, sometimes they
use the code, sometimes they still write the word.
Halal: Halal is a Quranic term which means allowed or lawful. Halal foods and drinks are permitted for consumption by Allah-the Supreme Law Giver. Eating Halal is obligatory on every Muslim.
Haram: Haram is a Quranic term which means prohibited or unlawful. Haram foods and drinks are absolutely prohibited by Allah. Eating Haram is forbidden for every Muslim.
Mushbooh: Mushbooh is an Arabic term which means suspected and cover a grey area between Halal and Haraam. If one does not know the Halal or Harm status of a particular food or drink, such a food or drink is doubtful. A practicing Muslims prevents himself from consuming doubtful things.
Other words you may come across are Makrooh meaning
‘religiously discouraged’ or ‘disliked’ and Dhabiha meaning
‘slaughtered according to Islamic method’.
E Codes:
E100 Curcumin, turmeric [Colouring] halal
E101 Riboflavin (Vitamin B2), formerly called lactoflavin (Vitamin G)
[Colouring] [likely to be GM] mushbooh
E101a Riboflavin-5'-Phosphate [Colouring] [likely to be GM] mushbooh
E102 Tartrazine [Colouring] [possible allergic reaction] halal
E103 Chrysoine Resorcinol [Colouring] ?
E104 Quinoline Yellow [Colouring] [possible allergic reaction] halal
E105 Fast Yellow AB [Colouring] ?
E106 Riboflavin-5-Sodium Phosphate [Colouring] mushbooh
E107 Yellow 2G [Colouring] ?
E110 Sunset Yellow FCF, Orange Yellow S [Colouring] halal
E111 Orange GGN [Colouring] ?
E120 Cochineal, Carminic acid, Carmines [Colouring] [animal origin] haram
Saturday, April 14, 2012
گوگل ارتھ اورگمشدہ بچہ
سنہ انیس سو چھیاسی میں گم ہو جانے والے ایک بھارتی بچے نے پچیس سال بعد گوگل ارتھ کی سیٹلائٹ کی تصویروں کی مدد سے اپنی ماں کو ڈھونڈ لیا ہے۔
آسٹریلیا کی ریاست ٹیزمینیا میں مقیم سارو کا کہنا ہے کہ وہ صرف پانچ برس کے تھے جب بھارت میں ایک ٹرین سٹیشن پر وہ اپنے بھائی سے بچھڑ گئے۔سارو نے بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ وہ اپنے بھائی کی کھوج میں ایک ٹرین پر سوار ہوئے جو انہیں بھارت کے تیسرے بڑے شہر کلکتہ لے گئی۔
’میں بےحد ڈرا ہوا تھا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ تاہم میں نے لوگوں کو ڈھونڈنا شروع کیا اور ان سے سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔‘
سارو کے بقول ’وہ بہت ہی خطرناک جگہ تھی۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی ماں باپ اپنے پانچ سالہ بچے کو کلکتہ کے گندے محلوں اور ٹرین سٹیشنوں میں اکیلے پھرتے دیکھنا چاہیں گے۔‘
تاہم ایسے میں سارو نے اکیلے رہنا سیکھ لیا اور انہوں نے بھیک مانگ مانگ کر گزارہ چلایا۔ ان کے بقول کچھ عرصہ ایسے گزرنے کے بعد انہیں ایک یتیم خانے نے اپنا لیے اور وہیں سے ان کی قسمت جاگی اور انہیں ایک آسٹریلوی جوڑی نے گود لے لیا۔
’میں یہ تسلیم کر چکا تھا کہ میں گم گیا ہوں اور میں اپنا گھر نہیں ڈھونڈ سکتا تاہم ایسے میں، میں نے سوچا کہ آسٹریلیا جانا ایک ذبردست بات ہوگی۔‘
اگرچہ وقت گزرتا گیا اور سارو آسٹریلیا میں اپنے نئے گھر میں رہنے لگے لیکن انہوں نے بتایا کہ ان کے دل میں اپنے پیدائشی خاندان کو ڈھونڈنے کی خواہش بڑھتی گئی۔ تاہم ایسے میں انہوں نے گوگل ارتھ کا استعمال کرنا شروع کر دیا اور کرتے کراتے انہیں ان کے آبائی علاقے کھنڈوا کا نقشہ مل ہی گیا۔
سارو نے بتایا کہ گوگل ارتھ کی تصاویر میں انہیں وہ جگہیں بھی مل گئیں جہاں وہ بچپن میں کھیلا کرتے تھے (جیسا کہ ایک آبشار) تاہم اس دریافت کے بعد انہوں نے یہاں جانے کا فیصلہ کیا۔۔"
سارو نے بتایا کہ ان کے پاس پچپن کی اپنی ایک تصویر تھی اور انہیں اپنے گھر والوں کے نام بھی یاد تھے۔ تاہم ان کی مدد سے وہ اپنی ماں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
سارو کے بقول ’میں نے جب انہیں آخری مرتبہ دیکھا تھا تو ان کی عمر چونتیس برس تھی اور وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ عمر کے ساتھ وہ اس قدر بدل جائیں گی۔‘
سارو نے بتایا ’میرا ہاتھ تھام کر وہ مجھے اپنے گھر لے گئیں۔ وہ میرے سے کچھ نہیں کہہ پائیں۔ میرے خیال میں وہ بھی مجھے دیکھ کر اسی طرح سکتے میں چلی گئیں جیسے میں ان کو دیکھ کر چلا گیا تھا۔‘
Saturday, January 21, 2012
Sunday, January 1, 2012
source:voa
2011 پاکستانی صحافیوں کے لیے مہلک سال
فوٹو AP
صحافیوں کی مقامی اور بین الاقوامی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ 2011ء میں پاکستان مسلسل دوسرے برس بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے مہلک ترین ملک ثابت ہوا ہے۔
جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن یا سیفما کے سیکرٹری جنرل امیتاز عالم کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے باعث رواں سال پاکستان میں صحافیوں کو اپنے فرائض کی سرانجام دہی میں مشکلات کا سامنا رہا اور زیادہ تر صحافیوں کی ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ہوئیں۔
’’(2011ء) میں 12 صحافی پاکستان میں مارے گئے ہیں، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جنہیں ہدف بنا کر قتل گیا یعنی پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتے ہوئے طے شدہ منصوبے کے تحت ان کو مارا گیا۔‘‘
پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سلیم شہزاد بھی شامل ہیں جو 29 مئی کو ایک نجی ٹی وی چینل کے مذاکرے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے تھے جس کے دو روز بعد ان کی تشدد زدہ لاش پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔
صحافیوں کی مقامی اور بین الاقوامی تنظمیوں نے سلیم شہزاد کے قتل کی شدید مذمت کی تھی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔
اس احتجاجی مظاہرے کے بعد سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا تھا جسے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ سلیم شہزاد کے قتل کے محرکات کی تحقیقات کر کے اس واقعہ کے ذمہ داران کی نشاندہی کرے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات تجویز کرے۔ لیکن 2011ء کے اختتام تک اس کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔
سیفما کے جنرل سیکرٹری امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ 2011ء میں ہلاک ہونے والے پاکستانی صحافیوں میں سے کسی کے بھی قتل میں ملوث ملزم گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔ نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں بالعموم صحافیوں کے قاتل سزا سے بچ نکلتے ہیں۔
لیکن وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مارے جانے والے تمام صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور موجودہ حکومت نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات بھی کیے ہیں۔
رحمٰن ملک نے کہا ’’زیادہ تر صحافیوں کی ہلاکت پہلے خبر کے حصول کی کوشش میں ہوئی۔‘‘ اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے لیے جانے والے صحافیوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اخیتار کرنے چاہئیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی ماہرین کے ذریعے مقامی صحافیوں کو شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے بارے میں تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔
جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن یا سیفما کے سیکرٹری جنرل امیتاز عالم کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے باعث رواں سال پاکستان میں صحافیوں کو اپنے فرائض کی سرانجام دہی میں مشکلات کا سامنا رہا اور زیادہ تر صحافیوں کی ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ہوئیں۔
’’(2011ء) میں 12 صحافی پاکستان میں مارے گئے ہیں، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جنہیں ہدف بنا کر قتل گیا یعنی پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتے ہوئے طے شدہ منصوبے کے تحت ان کو مارا گیا۔‘‘
پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سلیم شہزاد بھی شامل ہیں جو 29 مئی کو ایک نجی ٹی وی چینل کے مذاکرے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے تھے جس کے دو روز بعد ان کی تشدد زدہ لاش پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔
صحافیوں کی مقامی اور بین الاقوامی تنظمیوں نے سلیم شہزاد کے قتل کی شدید مذمت کی تھی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔
اس احتجاجی مظاہرے کے بعد سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا تھا جسے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ سلیم شہزاد کے قتل کے محرکات کی تحقیقات کر کے اس واقعہ کے ذمہ داران کی نشاندہی کرے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات تجویز کرے۔ لیکن 2011ء کے اختتام تک اس کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔
سیفما کے جنرل سیکرٹری امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ 2011ء میں ہلاک ہونے والے پاکستانی صحافیوں میں سے کسی کے بھی قتل میں ملوث ملزم گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔ نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں بالعموم صحافیوں کے قاتل سزا سے بچ نکلتے ہیں۔
لیکن وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مارے جانے والے تمام صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور موجودہ حکومت نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات بھی کیے ہیں۔
رحمٰن ملک نے کہا ’’زیادہ تر صحافیوں کی ہلاکت پہلے خبر کے حصول کی کوشش میں ہوئی۔‘‘ اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے لیے جانے والے صحافیوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اخیتار کرنے چاہئیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی ماہرین کے ذریعے مقامی صحافیوں کو شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے بارے میں تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔
Thursday, September 22, 2011
آب زمزم ایک نظرمیں(چوہدری جواد بھدر :پیرس )زمزم کا چشمہ 4000 سال قدیم ہے 13 فٹ چوڑا 11 فٹ لمبا اور 33 میٹر گہرا ہے ایک پاورفل موٹر 8000 لیٹر پر سیکنڈ کے حساب سے چشمہ سے 24 گھنٹے پانی کو پمپ کرتی رہتی ہے آب زمزم کو آ ج تک کائی نہیں لگی اور نہ ہی پانی کا ذائقہ بدلا پورا دن پمپ ہونے کے باوجود 11 منٹ بعد ہی پانی اپنے اصلی لیول پر واپس آ جاتا ہے زمزم کا پانی آج تک خشک نہیں ہوا .(سبحان الله .بشکریہ ڈینٹل سرجن ڈاکٹر چیمہ گجرات )
Subscribe to:
Posts (Atom)








