Showing posts with label بین الاقوامی خبریں. Show all posts
Showing posts with label بین الاقوامی خبریں. Show all posts

Thursday, October 4, 2012

پیرس :صحافیوں کے مابین باہمی روابط کیلتے ایک موثر و مضبوط پلیٹ فارم وقت کی اہم ضرورت ہے؛حسن وارثی

( نمائندہ خصوصی )یورپ کے مشہورصحافی و کالم نگار حسن وارثی نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ یورپ کے ممالک میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے مابین باہمی روابط کیلتے ایک موثر و مضبوط پلیٹ فارم وقت کی اہم اور اشد ضرورت ہے .انہوں نے کمیونٹی کے سرگرم اور سرکردہ اراکین سے استدعا کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں .آل پاک یورپ پریس کلب کی بنیاد رکھی جاتے.جہاں یورپ کے تمام اخبارات کے نمایندگان کی تفصیلات درج ہوں اور انکی پیشہ وارانہ تربیت کیلئے ماہانہ وار کلاسز کا اجرا کیا جاتے .اسطرح باہمی تبادلہ خیال کے علاوہ صحافیوں کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور انکے حل کی راہیں ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور ان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کے مواقع بھی نکلیں گےجو یہاں اپنی محنت مزدوری اور بےپناہ مصروفیات کو چھوڑ کر بغیر کسی لالچ کے محض خدمت خلق اور جہاد بلقلم کا جذبہ لیکر کمیونٹی کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں .انہوں نے اپنے ایک انٹرنیٹ پیج                                  overseas journalist forum                                                                                   کا ذکر کیا جہاں پیتیس سے زائد صحافی موجود ہیں یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کاوش ہے.

Friday, August 10, 2012

پیرس :ابرار کیانی کی طرف سے کیانی ریسٹورینٹ میں افطار ڈنر کا اہتمام ؛پوٹھواریوں کی بھر پور شرکت (شہزاد وارثی ) گزشتہ شام پیرس کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت ابرار کیانی کی طرف سے کیانی ریسٹورنٹ پیرس میں ایک گرینڈ افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا .جس میں انکی دعوت پر پوٹھوہاری معززین نے بھر پور شرکت کی ؛افطار سے قبل خصوصی دعا مانگی گئی افطاری کی بعد قریب ہی ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کی بعد کھانا اور چاۓ پیش کی گئی .ہنس مکھ طبیعت اور سحر انگیز شخصیت کے مالک ابرار کیانی اکثر کمیونٹی کو قریب لانے کے لئے پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں اپنی ملنساری اور حسن سلوک کی وجہ سے پہلی ہی ملاقات میں وہ انسان کے دل میں گھر کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود لوگ انکی آواز پر لبیک کہتے ہوۓ انکے ساتھ بھر پور شریک ہوتے ہیں ..

Friday, May 25, 2012

source bbc urdu


تینتیس برس سزا، امداد میں تینتیس ملین کی کٹوتی

ڈاکٹر شکیل آفریدی نےالقاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کی تلاش میں سی آئی اے کی مدد کی تھی
امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو’غداری‘ کے جرم میں تینتیس برس کی قید سنانے کے ردعمل میں پاکستان کی امداد میں تینتیس ملین ڈالر کی کٹوتی کی منظوری دی ہے۔
دو روز قبل پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے ایک پولٹیکل ایجنٹ نے اپنے فیصلے میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو تینتیس برس کی قید سنانے کا اعلان کیا تھا۔غیر ملکی امداد کے مجموعی بجٹ کی منظوری کے حتمی اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف ریپبلکن پارٹی کے رکن، سینیٹر لِنڈزے گراہم نے ترمیم پیش کی کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سزا کے عوض پاکستان کی امداد کاٹ لی جائے۔ کمیٹی کے کسی رکن نے اِس ترمیم کی مخالفت نہیں کی اور اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔سینیٹ کی غیر ملکی امداد کی منظوری دینے والی تیس اراکان پر مشتمل کمیٹی نے اپنے ایک متفقہ فیصلے میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنائی جانے والی قید کے

Tuesday, May 1, 2012

برازیل میں ایک ڈرامے کے دوران حادثاتی طور پر خود کو پھانسی لگانے والے ستائیس سالہ تھیٹر اداکار تیاگو کلمیک انتقال کر گئے ہیں۔
تیاگو کلمیک جمعہ کو اس وقت کوما میں چلے گئے تھے جب ایتاریر نامی شہر میں گڈ فرائی ڈے کے موقع پر سٹیج کیے گئے ڈرامے میں جوڈا کا کردار نبھاتے ہوئے خودکشی کے ایک منظر میں انہیں واقعی پھانسی لگ گئی۔
وہ خودکشی کی ایکٹنگ کر رہے تھے اور جب وہ چار منٹ تک رسی پر لٹکے رہے تو ان کے ساتھیوں کو محسوس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔
اس پر انہیں جلدی سے نیچے اتار کر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ اتوار کو انتقال کر گئے۔
ایتاریر کے سانتا کاسا ڈی ایتاپیوا نامی ہسپتال نے تیاگو کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور اب ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا ڈرامے کے اس منظر کے لیے تیار کی گئی پھانسی کی رسی میں لگی گانٹھ میں کوئی گڑبڑ تو نہیں

Saturday, April 7, 2012

معلومات چوری ہونے پر صارفین کو وراننگ

               
کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والی دنیا کی تین بڑی کمپنیوں ویزا، ماسٹر کارڈ اور ڈسکور نے معلومات چوری ہونے پر اپنے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ ان کی ذاتی معلومات کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
سکیورٹی بلاگ کرپس آن سکیورٹی جس نے سب سے پہلے معلومات چوری ہونے کی خبر دی تھا، نے کہا ہے کہ ذرائع کے مطابق ایک کروڑ کارڈز کی معلومات چوری ہوئیں ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ یہ معلومات، امریکہ کے شہر نیو یارک میں چوری کی گئیں جس کے نتیجے میں امریکہ ہی کے زیادہ تر صارفین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ تینوں کمپنیاں کئی بین الاقوامی بینکوں کے کھاتوں تک، صارفین کی رسائی کے لیے ڈیبٹ کارڈ بھی جاری کرتی ہیں۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کارڈز کی معلومات کی چوری اُن کی شریک چوتھی کمپنی کے نظام میں کمزوری کے باعث ہوئی جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کارڈ پروسیسنگ کمپنی گلوبل پے منٹس سے معلومات چوری ہوئی ہیں، اس خبر کے بعد بازارِ حصص میں کمپنی کے شیئرز میں نو فیصد گراؤٹ ہوئی ہے۔
متعدد بار درخواست کے باوجود گلوبل پے منٹس کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والی تینوں کمپنیوں نے متاثر ہونے والے صارفین کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
ڈسکور فنانشل سروسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کھاتوں کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو کارڈز دوبارہ جاری کیے جائیں گے۔
ماسٹر کارڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’جب بھی صارفین کو کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ہمیں اس پر تشویش ہوتی ہے، ہم نے صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور صارفین کے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

Saturday, December 24, 2011

SORCE:BBC URDU

 حافظ سعید، آئی ایس آئی پر فرد جرم کی اجازت


ممبئی پر حملے میں تقریبا ایک سو ستّر افراد ہلاک ہوئےتھے
بھارتی حکومت نے دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہوئے حملے کےمعاملے میں امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی، پاکستانی شہری حافظ سعید اور آئی ایس آئی کے دو افسران سمیت نو افراد پر فرد جرم عائد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ممبئی حملے کے کیس سے متعلق وزارت قانون سے رائے مانگی گئي تھی اور اسی کے مشورہ کے بعد وزارت داخلہ نے ان افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کو کہا ہے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق جن افراد کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے احکامات دیےگئے ہیں اس میں ذکی الرحمن لکھوی، طہور رانا، الیاس کشمیری کے نام کے ساتھ ہیڈلی کے ایک ساتھی ساجد ملک اور ان کے علاوہ عبدالرحمن کا نام بھی شامل ہے۔
پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے جن دو افسروں پر فرد جرم عائد کرنے کو کہا گيا ہے ان کے نام میجر اقبال اور سمیر علی بتائے جا رہے ہیں۔
قومی تفتیشی ٹیم این آئی اے نے ان افراد کے خلاف ایک مقدمہ پہلے ہی درج کیا تھا اور اب ان افراد پر بھارتی دفعات کے تحت ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
اس وقت امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی اور طہور رانا امریکی سکیورٹی حکام کی حراست میں ہیں۔ بھارتی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو صرف ہیڈلی سے پوچھ گچھ کے لیے محدود اجازت ملی تھی۔
طہور رانا پر امریکی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور وہ ڈنمارک میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں تو قصور وار پائے گئے لیکن ممبئی حملے میں وہ بری کر دیے گئے تھے۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں شدت پسندوں نے کئی مقامات پر حملے کیے تھے جس میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
ان حملوں کے بعد واحد زندہ بچنے والے حملہ آور اجمل قصاب ممبئی کی جیل میں قید ہیں۔ انہیں عدالت نے متعدد افراد کو ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا ہے اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی سازش پاکستان میں بنائی گئی اور وہیں سے حملہ آور ممبئی پہنچے تھے۔ بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور یہ کہ پاکستان نے حملے کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔
پا کستان میں ممبئی حملوں کی مبینہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار سات افراد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے لیکن ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے بھارتی حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن جلد بھارت آنے والا ہے۔
ممبئی حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور نتجیتاً امن مذاکرات بھی معطل ہوگئے تھے۔

Tuesday, September 27, 2011

جگجیت سنگھ کو برین ہیمرج

جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا۔
بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔
ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔
اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔
جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔
ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

Monday, September 26, 2011

فرانس: نقاب کے قانون سے انکاری خواتین

بتیس سالہ فرانسیسی شہری ہندِ احمس اور ان کی سہیلی نجات نعیت علی فرانس کی پہلی دو خواتین ہیں جنھیں سرعام نقاب پہننے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔
طلاق شدہ اور ایک بچے کی ماں ہندِ احمس کو اگرچہ عوامی مقام پر نقاب پہننے پر جرمانے کی سزا ملی ہے لیکن انھوں نے اس کو خوش آمدید کہا ہے۔
فرانس میں نقاب پوشی پر پابندی کے قانون کے خلاف چھ ماہ تک مہم چلانے کے بعد اب ہند احمس کو ایک ایسا پلیٹ فام ملا ہے جس کے تحت وہ اس پابندی کو چینلج کر سکتی ہیں۔
ہندِ احمس جمعہ کو جرمانے کی سزا کے خلاف اپنے حامیوں سمیت عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش ہونگی۔
انھوں نے کہا کہ فرانس میں قانونی پروسیس کی تکیمل میں کئی ماہ اور ممکنہ طور پر کئی سال لگ سکتے ہیں لیکن اس راستہ پر چلتے ہوئے وہ پابندی کے خلاف یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔
آج کی قطعی رائے نہ صرف فرانس کی حکومت بلکہ یورپی کے دیگر ممالک بیلجئیم، اٹلی، آسٹریا، نیدرلینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے لیے بھی مسائل کا سبب بنے گی، جہاں پر اسی قسم کی پابندی ممعتارف کرائی گئی ہے یا ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے

Sunday, September 25, 2011

پیرس :مرحوم ثنا کی یاد میں نکالی گئی ریلی ،تصویری جھلکیاں (حسن وارثی ) 



















Saturday, September 24, 2011

پیرس :مرحوم ثنا محبوب کی یاد میں اتوار ٢ بجے ریلی نکالی جاتے گی،مئیر فرانسوا پپونی بھی شرکت کریں گے.(میرزا خالد بشیر )
   گزشتہ روز ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے والی آٹھ  سالہ پاکستانی بچی ثنا محبوب کی یاد میں اتوار دن ٢ بجے ایک ریلی نکالی جاتے گی جس میں پاکستانی اور  دیگر کمیونٹی کے افراد شرکت کریں گے،مئیر فرانسوا پپونی کی شرکت بھی متوقع ہے.ریلی میری دی سارسل فلاناد سے شروع ہو کر جاتے حادثہ تک جاتے گی تمام پاکستانی کمیونٹی سے شرکت کی اپیل کی جاتی ہے . 

Friday, September 23, 2011

پیرس .ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے  والی پاکستانی آٹھ سالہ بچی  ثنا محبوب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ،میت پاکستان روانہ  (حسن وارثی )

چند روز قبل ایک ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی بچی ثنا محبوب کی نماز جنازہ آج ٣ بجے پیرس میں ادا ہو گئی نمازے جنازہ کے بعد میت پاکستان روانہ کر دی گئی جہاں بچی کے آبائی گاؤں ماندر میں کل دن تین بجے بچی کی نماز جنازہ پھر ادا کی جاتے گی.بچی کے والد پہلے ہی کسی کام کی سلسلے میں   پاکستان میں گئے ہوے تھے.انکی غیر موجودگی میں راجہ اشفاق نتھہ چھتر، ،چوہدری نواز ،میری دی سارسل کے مئیر مسٹر فرانسوا پپونی ،نائب یوری کے تعاون سے میت کی آخری رسومات اور قانونی تقاضے بہت جلد پورے کئے گئے .ان حضرات کی کاوش کو کمیونٹی کے لوگوں جن میں لیاقت اسماعیلہ ،الیاس  اسماعیلہ ،راجہ حمید نتھہ چھتر ،ماسٹر یعقوب،میرزا غالب ،شہزاد وارثی ،چوہدری سعید،راجہ ظھیر،راجہ اشفاق ،ابرار کیانی ،چوہدری شبیر بھدر ،قاضی عبدالحمید،اور دیگر نے سراہا ہے.           
         









          

Thursday, September 22, 2011

مقبول صابری انتقال کر گئِے

پاکستان کے معروف قوال مقبول صابری جنوبی افریقہ کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کے عمر ستر برس تھی۔
مقبول صابری اپنے علاج کے لیے دو ماہ قبل سے بیرون ملک مقیم تھے ۔
مقبول صابری کے بھتجے امجد صابری نے بتایا کہ ان کے چچا کو دل کی تکلیف کے ساتھ ساتھ شوگر کا مرض بھی لاحق تھا اور دو سال قبل ان کا بائی پاس ہوا تھا۔
امجد صابری کے مطابق مقبول صابری نے اپنی بیماری کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ سے قوالی گانا چھوڑ دی تھی اور دل کی تکلیف کے علاج کے لیے جنوبی افریقہ گئے تھے۔
مقبول صابری تمغہ حسن کارکردگی حاصل کرنے والے مشہور قوال غلام فرید صابری کے چھوٹے بھائی تھے۔
مقبول صابری بارہ اکتوبر انیس سو اکتالیس کو بھارتی پنجاب کے علاقے کلیانہ میں پیدا ہوئے اور ان کا شمار پاکستان کے ممتاز قوالوں میں ہوتا تھا اور انہوں نے اپنے بڑے بھائی غلام فرید صابری کے ساتھ قوالی گانا شروع کی اور صابری براردز کے نام سے شہرت حاصل کی۔
مقبول صابری نے اپنے بڑے بھائی غلام فرید صابری سے گیارہ برس چھوٹے تھے اور انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ گائی گئی قوالیوں کی وجہ بہت نام کمایا۔ مقبول صابری نے اپنے بھائی کے ہمراہ بیرون ملک بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا جو بہت پسند کیاگیا۔
مقبول صابری قوالی کی صنف میں ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے۔
ستر اور اسی کے دہائی میں صابری برادرز کو قوالیوں کی وجہ سے بہت پذیزائی ملی اور یہ وہ دور تھا جب ان کی قوالیوں والی بے شمار کیسٹس ریلیز ہوئیں اور ان کی ریکارڈ فروخت ہوئی۔
مقبول صابری نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ ، ایک بیٹا اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔
امجدصابری نے بتایا کہ ان کے چچا مقبول صابری کی میت کو پاکستان لانے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
غلام فرید صابری اور نصرت فتح علی خان جیسے جید قوالوں کے بعد مقبول صابری کی وفات قوالی کی صنف کے لیے یقیناً ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔