پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک بڑے سیاحتی مرکز کی حیثیت
رکھنے والا ضلع سوات گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پہلے دہشت گردی، پھر دہشت گردی کے
خلاف جنگ اور پھر دو ہزار دس میں سیلاب کی زد میں رہا۔ لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا
کہ یہ وادی ان اثرات سے باہر نکل رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور سکیورٹی کے لیے تعینات فوج سوات کو ایک پر
امن اور سیاحت کے لیے موزوں مقام کے طور پر پیش کر رہی ہے۔کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر ملک عبدالودود جو خود بھی ہوٹل کے مالک ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں سیاحت بحال ہو چکی ہے۔ خراب سڑکوں اور مواصلات کا نظام نہ ہونے کے با وجود اس مرتبہ پچھلے سال کے مقابلے میں کافی زیادہ سیاح آ رہے ہیں اور بقول ان کے انھوں نے پہلے کبھی اتنا رش نہیں دیکھا۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی فوج نے سکیورٹی کا اچھا خاصا انتظام کیا ہے اور راستوں کو بھی اس حد تک ہموار کر دیا ہے کہ موٹر کار اور دوسری چھوٹی گاڑیوں میں بہت زیادہ لوگ آ رہے ہیں اور کچھ لوگوں کو تو ہوٹلوں میں رہائش کے لیے جگہ بھی نہیں مل پا رہی







