صوبہ سندھ میں تباہ کن بارشوں کے بعد آنے والے سیلابوں نے اس بار وہ تباہی مچائی ہے کہ اسے بیان کرنے کے لئے پتھر کا جگر چاہئے۔ سیلاب کاسب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن معصوموں کو زندگی کا صحیح مفہوم بھی معلوم نہیں وہ پل پل موت کے بے رحم شکنجے سے پنجہ آزمائی کررہے ہیں۔ مجبور ، بے کس اور بے یارومددگار سیلاب سے متاثرہ بچوں کی تعداد دوچار ہزار نہیں بلکہ 25 لاکھ ہے