Saturday, December 31, 2011

 sorce voa urdu

انٹارکٹیکا کےتیزی سے پگھلتےگلیشئر

مغربی انٹارکٹیکا کے اس علاقے میں برف کے پگھلنے سے گزشتہ چند برسوں میں سمندر کی سطح میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے: ماہرین
فوٹو ASSOCIATED PRESS
انٹارکٹیکا
سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم دسمبر کے وسط میں انٹارکٹیکا جا رہی ہے جہاں وہ بر اعظم  میں گلیشئر کی  تیزی سے پگھلتی ہوئی برف کے بارے میں جائزہ لےگی۔
سائنسداں  برف کے ایک ٹکڑے پر اپنا کیمپ قائم کریں گے جو امریکہ کے  McMurdo ریسرچ سٹیشن سے 2600 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ ان کی اس ریسرچ اور مشاہدے سے مدد مل سکے گی کہ آب وہوا کی تبدیلی سے انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کے بارے میں درست انداز میں پیشگوئی کرنا ممکن ہو گا۔ اور، برف پگھلنے کے نتیجے میں آنے والی صدیوں  میں  عالمی سطح پر سطح آب میں اضافہ ہو گا۔
اس سائنسی مہم کا ہدف پائن آئی لینڈ گلیشئر ہے جس کی چوڑائی2300مربع میٹر اور یہ 500میٹر گہرا ہے ۔
مغربی انٹارکٹیکا کے اس علاقے میں برف کے پگھلنے سے گزشتہ چند برسوں میں سمندر کی سطح میں سات  فیصد اضافہ ہوا ہے۔یہ بات ناسا کے ماہر اور ٹیم لیڈر  نے بتائی ۔ وہ گلیشیئر ز کے ماہر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انٹارکٹیکا میں برف پگھل رہی ہے اور سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں جانا ہے ۔اور اس سلسلے میں ہم نے پائن آئی لینڈ گلیشیئر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ تیزی سے حرکت کرنے والا گلیشیئر ہے۔ اور یہی وہ گلیشیئر ہے جس کی برف سطح  سمندرکے نیچے تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اور ہمارے اندازے کے مطابق بعض مقامات پر ہرسال 100میٹر سے زائد برف پگھل جاتی ہے اور یہ شرح بے حد زیادہ ہے۔
اس مہم کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آخر یہاں ہو کیا رہا ہے۔ بنڈ شیڈلر کہتے ہیں برف کے پگھلنے کی وجہ ہوا ۔ پانی اور برف کا باہمی امتزاج ہے جبکہ برف کی تہ کے نیچے خلا سےحرارت اٹھتی ہے۔ٹیم کو اب یہ معلوم کرنا ہے کہ برف کی تہ کے نیچے موجود خلا کی شکل کیسی ہے۔          
بنڈ شیڈلر کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی تفصیل معلوم نہیں  اور ہم اپنے مشاہدے اور تجربے سے یہی معلوم کریں گے۔
سیٹلائیٹس گلیشیئر کی پیمائش کرتے ہوئے اس کی حرکت کو بھی نوٹ کر سکتے ہیں لیکن یہ برف کی تہ کے نیچے ہونے والی تبدیلی
 پتہ نہیں چلا سکے۔
بنیادی طور پر اس طریقے کے تحت اس 500میٹر  موٹے برف کے شیلف میں 27سینٹی میٹر حجم کا ایک سوراخ بنایا جائیگا  اور اس کے لئے پمپ کے ذریعے گرم پانی استعمال ہو گا۔ ایک طرح سے یہ انتہائی بنیادی طریقہ ہے لیکن اس کے لئے شدید محنت درکار ہے۔اسے برف کے اندر دور تک پہنچانے کے لئے ہلکا اور پورٹیبل ہونا چاہئے۔
جب ڈرل پانی کی تہ تک پہنچ جاتی ہے تو پھر سائنسدان ایک کیمرہ نیچے بھیجیں گے  جو برف کی تہ کے نیچے کی صورتحال کا مشاہدہ کرے گا اور  اسے سیل کر دیگا۔ Stanton کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم پروفائلر نامی ایک آلہ بھی نصب کریگی جو ایک کیبل کی مدد سے اوپر نیچے حرکت کر سکتی ہے اور برف کے نیچے اور سمندر کی تہ سے اوپر کے  درجہ حرارت۔سیلن اور بہاو  کا تعین کر سکتی ہے۔
اور پھر گہرائی میں سنسروں اور altimeter کی مدد سے برف کے پگھلنے کی رفتار کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

پائن آئی لینڈ گلیشیر پر موجود کیمپ ضرورت کے لئے توانائی ہوا  کی مدد سے چلنے والے جنریٹر ۔ شمسی پینل  اور  بیٹریاں استعمال کرے گا۔ اور سان ڈئیگو میں ان کے سکول میں موجود ان کے ساتھیوں سے رابطہ استوار رکھنے میں مدد  ملے گی۔
اور سٹینٹن کے مطابق برف کے پگھلنے کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کی حکمت عملیمیں تبدیلی کر نا ممکن رہے گا۔ پائن آئی لینڈ گلیشیر کی اس مہم کے لئے نیشنل سائنس فاونڈیشن اور امریکہ کے خلائی ادارے  ناسا نے فنڈز فراہم کئے ہیںٕ۔ سمندر کے ماہر Timothy Stanton نے کہا ہے کہ اس تحقیق سے برف کے پگھلنے کی شرح  اور ہمارے سیارے پر تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کا علم ہو سکے گا۔

Monday, December 26, 2011

آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش

نظریہ اضافیت کے بانی ڈاکٹر آئن سٹائن ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جدید سائنس کے افق پر جگما رہے ہیں۔ انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس دان سمجھا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 1955ء میں ہوا تھا، جس کے بعد پہلی بار ان کادماغ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹائن کا دماغ عام انسانی دماغ سے قدرے مختلف ہے۔

البرٹ آئن سٹائن زندگی بھر کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور توانائی اور مادے کے تعلق کی گتھیاں سلجھانے کا سوچتے رہے، مگر اس دوران شاید انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک روز ان کا دماغ نمائش کے لیے رکھا جائے گا اور لوگ حیرت سے اسے دیکھ کر سوچیں گے کہ یہی ہے وہ دماغ جس نے ایٹم توڑ کر توانائی حاصل کرنے کانظریہ پیش کیا تھا اور جس نے کہا تھا کہ کائنات کی کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔
جدید طبیعاتی سائنس کی بنیاد آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پر قائم ہے، مگر چند ماہ قبل یورپ میں قائم جوہری طبیعات کی دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین تجربہ گاہ میں  یہ نظریہ باطل ہوچکاہے اور روشنی سے بھی تیزرفتار ذرات نیوٹرینو دریافت کرلیے گئے ہیں۔
ان دنوں امریکی شہر فلاڈلفیا کے مووٹرمیوزیم اینڈ ہسٹاریکل میڈیکل لیبارٹری میں آئن سٹائن کے دماغ کی نمائش جاری ہے۔ اس نمائش میں ان کے دماغ  کو46 ٹکڑوں کی شکل میں سلائیڈوں پر پیش کیا گیا ہے۔ 20 ویں صدی کے اس عظیم ترین سائنس دان کے دماغ کی یہ پہلی نمائش ہے۔
عجائب گھر کی کیوریٹر اینا ڈوڈی کا کہناہے کہ میوزیم میں آنے والے دماغ کی 45 سلائیڈوں کو اپنی اصلی حالت میں دیکھ سکتے ہیں جب کہ ایک سلائیڈ کو خردبینی عدسے کے ذریعے بڑا کرکے دکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

آئن سٹائن کا انتقال 1955ء میں 76 سال کی عمر میں ہواتھا۔ موت کے اسباب کا پتا لگانے کے لیے ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے ان کا پوسٹ مارٹم کیاتھا۔اس دوران ڈاکٹر نے ان کا دماغ بھی معائنہ کے لیے باہر نکالا مگر وہ اسے دوبارہ کھوپڑی کے اندر رکھنے میں ناکام رہے اور انہوں نے دماغ کو اپنے ہی پاس رکھ لیا۔ ڈاکٹر ہاروے نے دعویٰ کیا تھا کہ آئن سٹائن کے بیٹے نے انہیں دماغ لے جانے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اس پر کھڑے ہونے والے تنازع میں ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے، مگر عظیم سائنس دان کا دماغ انہی کی تحویل میں رہا۔
ڈاکٹر ہاروے کو اپنی ابتدائی  تحقیق سے پتا چلا کہ دماغ کے دونوں حصوں کو ڈھاپنے والی مخصوص تہہ موجود نہیں تھی اور دماغ کے خلیوں کا حفاظتی حصہ بھی نمایاں طورپر بڑا تھا۔ گویا آئن سٹائن کا دماغ عام افراد سے کچھ مختلف تھا۔
اس واقعہ کے کئی سال کے بعد ڈاکٹر ٹامس ہاروے نے آئن سٹائن کے دماغ کے کچھ حصے مزید تحقیق کے لیے نیورو سائنس دانوں کو بجھوائےتا کہ وہ یہ جائزہ لیں کہ دماغ کے کس حصے نے  انہیں 20 ویں صدی کا ذہین ترین سائنس دان بنانے میں مدد دی تھی۔
تفصیلی معائنے  اور متعدد تجربات سے گذرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ آئن سٹائن کے دماغ کے وہ حصے جن کا تعلق بول چال اور زبان سے ہوتا ہے، نسبتاً چھوٹے تھے ، جب کہ ریاضی اور سوچ بچار سے متعلق حصے ایک نارمل دماغ کی نسبت15 فی صد بڑے  تھے ۔ اس کے علاوہ نیوران، یعنی تمام دماغی امور انجام دینے والے خلیوں کے  گرد مخصوص حفاظتی تہہ ’  گلیال ‘ بھی عام افراد کی نسبت بڑی تھی۔

1999ء میں کینیڈا کے شہر ہملٹن  میں واقع مک ماسٹر یونیوسٹی میں دماغی  امور کے ماہرین کی ایک اور ٹیم کوتفصیلی معائنے سے پتا چلا کہ آئن سٹائن کے دماغ کے سامنے کے حصے  میں ایک خلا موجود تھا۔ ماہرین نے اندازہ لگایا کہ اس خلاکے باعث اس حصے میں واقع نیوران کی کاررکردگی نمایاں طور پر بہتر بنانے میں مدد ملی ۔اور اسی لیے ان کی سوچ ایک عام آدمی سے مختلف تھی۔ آئن سٹائن کا خود بھی یہ کہناتھا کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں ،اسے تصور کی آنکھ سے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہناہے کہ آئن سٹا ئن کے دماغ کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان کا انتقال 76 سال کی عمر میں ہواتھا مگردماغ کی ساخت دیکھ کرایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی نوجوان شخص کا دماغ ہو۔
ڈاکٹر ٹامس ہاورے نے چونکہ اپنی تربیت کے دوران کچھ وقت فلاڈلفیا کی اسی لیبارٹری میں گذارا تھا۔ اس لیے انہوں نے دماغ پر تحقیق کے لیے  اس میڈیکل میوزیم کے ایک ماہر ولیم ایریچ   سے رابطہ کرکے  اس کی 46 سلائیڈز بنوائیں۔ ہر سلائیڈ  کی موٹائی انسانی بال سے بھی کم تھی۔ جنہیں انہوں نے  ایک خصوصی بکس میں محفوظ کرلیا۔

سلائیڈیں بننے کے بعد آئن سٹائن کے دماغ کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔  کچھ عرصہ یہ سلائیڈیں ولیم ایریچ کے پاس رہیں۔ 1967ء میں ایریچ کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے وہ بکس ایک  اور ڈاکٹر ایلن سٹائن برگ کے حوالے کردیا۔  جنہوں نے مزید تحقیق کے لیے اسے  فلاڈلفیا کے چلڈرن ہاسپٹل کے نیوروسرجن ڈاکٹر لکی رورک ایڈمز کو دے دیا۔
ڈاکٹر ایڈمز نے اپنی تحقیق مکمل کرنے کے بعدحال ہی میں آئن سٹائن کے دماغ کی سلائیڈوں کا مکمل سیٹ مووٹر میوزیم کو عطیہ میں دیا ہے۔لائیو سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایڈمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آئن سٹائن کے دماغ کو میڈیکل سائنس کی تاریخ کے ایک اہم حصے کے طور پر مووٹر میوزیم  میں رکھ دیا جائے۔
میڈیکل ہسٹری میوزیم کی عہدے دار ڈورڈی کا کہناہے کہ کچھ عرصے تک  آئن سٹائن کے دماغ کی  نمائش اسی عجائب گھر میں جاری رہے گی، بعد میں  دوسرے عجائب گھروں میں  اسے نمائش کے لیے بھیجا جائے گا۔