Monday, June 13, 2011

شاعری

مضامین source bbc urdu

ہدایت نامہ برائے صحافی برادری

ہدایت نامہ برائے صحافی برادری

1۔قلم اٹھانے سے پہلے بلند آواز میں کہیں کہ ملک اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ اگر ملک کا خیال نہیں ہے تو لکھنے سے پہلے اپنے جسم کے نازک حِصوں کے بارے میں سوچیں، ان پر اگر نازک وقت آگیا تو کیا ہوگا؟
2۔اگر کسی خبر میں مسلح افواج کا ذکر آئے تو اس کے لیے فوج کا لفظ استعمال مت کریں، عسکری یا مقتدر حلقوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ بلکہ آپ کی اور آپ کے اخبار کی صحت کے لیے بہتر ہوگا کہ لفظ مقتدرہ استعمال کریں۔ بزرگ پڑھنے والے سمجھیں گے کہ آپ مقتدرہ قومی زبان جیسے اداروں میں فخرزمان یا افتخار عارف کاحوالہ دے رہے ہیں ، نوجوان سوچیں گے کوئی نئی عربی ڈش ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔
3۔اگر آپ کی طبیعت شاعری کی طرف مائل ہے تو یہ شعر خوشخط لکھ کر اپنے سامنے آویزاں کرلیں۔
لےسانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہِ شیشہ گری کا
4۔ کیا پلاٹ لے لیا ہے؟ اگر کل مرجاؤ گے تو بچے کیا تمہارے ضمیر کا اچار ڈال کر کھائیں گے؟
5۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر کراچی میں صحافت کرتے ہیں تو وہ آفاق والا شعر اتار دیں۔ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ آپ آفاق گروپ کے آدمی ہیں۔
6۔ جیسے ہی کسی خبر میں لفظ بلوچ، بلوچی یا بلوچستان آئے تو اس کو کاٹ کر لفظ نامعلوم ڈال دیں۔ مثلاً َ کچھ نامعلوم افراد ایک نامعلوم شخص کو اغواء کر کے ایک نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں اس پر نامعلوم طریقے سے تشدد کر کے نامعلوم جگہ پر پھینک دیا گیا۔
7۔یہ لکھنا نہ بھولیں کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایک نامعلوم مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
8۔اگر بچپن میں کہیں قلم اور تلوار کی طاقت والا لطیفہ سنا تھا تو اسے بھول جائیں اب اس پر کوئی نہیں ہنستا۔
9۔قومی سلامتی کے امور پر لکھنے سے پہلے وضو کر لیں اور اگر ایمان کمزور ہے تو اس طرف مت جائیں۔ اور بہت سے موضوعات ہیں جن پر لکھا جاسکتا ہے ، ہمارے گٹر کے ڈھکن کون چراتا ہے، بھکاری مافیا کے نئے انداز، قبضہ گروپ کی کارستانیاں وغیرہ وغیرہ۔
10۔لیکن یاد رہے کہ قبضہ گروپ اور مقتدرہ کا ذکر ایک ساتھ نہ آئے۔
11۔اس ہدایت نامے کے عنوان میں برادری کے مطلب کہنے کے لیے کسی پنجابی بھائی سے رجوع کریں۔ چیمہ، چٹھہ، کیانی ویسے تو سب برادریاں کہلاتی ہیں لیکن برادری کے اندر چھوٹے بڑے کا احترام ضروری ہے۔ مثلا َ َ کیانی برادری کے اندر ایک فالسے کی ریڑھی لگانے والا بھی ہو سکتا ہے اور ایک میجر بھی۔ پہلے برادری میں اپنے مقام کا تعین کریں۔ اس سے پہلے کہ برادری آپ کو اپنا مقام یاد کرائے، برادری میں اپنا مقام پیدا کریں۔
12۔بعض ناعاقبت اندیش لوگ ہمارے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو ان کے نام سے پکارنے لگے ہیں یا انہیں خفیہ ایجنسیاں کہہ کر بلانے لگے ہیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں کوئی بات خفیہ نہیں ہے۔ آپ پرلازم ہے کہ انہیں ہمیشہ حساس ادارے کہہ کر پکاریں۔ اگر آپ اپنے حساس اداروں کے بارے میں لکھتے ہوئے اپنے محسوسات کو ایک طرف نہیں رکھیں گے اور معاملے کی حساسیت کا خیال نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے جسم کے کسی حساس حصے پر ضرب آئے اور پھر آپ بلبلاتے ہوئے حساس اداروں کو الزام دینے لگیں، حالانکہ آپ کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔

ہیلتھ کارنر

ای کولائی وائرس سے اٹھارہ ہلاک

سبزیاں
جرمنی سفر کرنے والے اشخاص کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ جرمنی میں کچے کھیرے، سلاد اور ٹماٹر کھانے سے گریز کریں
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ای کولائی وائرس پھیلنے کی وجہ ایک ایسا نیا جراثیم ہے جو انسانی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور اس سے انسانی جان کوسنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
ای کولائی سے متاثر ہونے والے اشخاص انتہائی مہلک پیچیدگیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس سے خونی پیچش اور پیشاب کے راستے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔
ای کولائی وباء ابھی تک زیادہ تر جرمنی تک محدود ہے جہاں اس سے ایک ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے سترہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور چار سو ستر جان لیوا صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ سویڈن میں ایک شخص ای کولائی وائرس سے ہلاک ہو ا ہے۔
ای کولائی جراثیم کے سامنے آنے کے بعد کہا گیا تھا کہ اس کے پھیلنے کی وجہ ہسپانیہ سے برآمد کیے جانے والے کھیرے ہیں۔ سپین سے ہزراوں ٹن کھیرے یورپ میں برآمد کیے جاتے ہیں۔
سپین نے دھمکی دی ہے کہ اگر غیر محتاط بیانات کی وجہ سے اس کی سبزیوں کی برآمد متاثر ہوئی تووہ یورپی یونین سے ہرجانے کا تقاضہ کر سکتا ہے۔ ماہرین اب ہسپانیہ کے کھیروں کو ای کولائی کی وجہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔
تحقیق کار ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائے ہیں کہ کھیرے کس مرحلے پر ای کولائی وائرس سے آلودہ ہوتے ہیں۔ جرمنی کے علاوہ ای کولائی انفیکشن کے کیس برطانیہ، ڈنمارک ، فرانس، ہالینڈ، سویڈن میں بھی سامنے آئے ہیں۔
روس نے یورپی یونین سے سبزیوں کی درآمد فل الفور روک دیا ہے اور کہا ہے یورپ سے برآمد ہونے والی ہر سبزی کو تلف کر دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ای کولائی جراثیم انسانی جسم میں داخل ہو کر خون اور گردے مثاتر کرتے ہیں جس سے انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
برطانیہ میں ای کولائی کے تین کیس سامنے آئے ہیں۔ تینوں اشخاص جرمنی کا دورہ کر کے واپس برطانیہ لوٹے تھے۔
عالمی ا دارہ صحت نے کہا کہ یہ جراثیم پہلے کبھی بھی وباء کی شکل میں نہیں پھیلا تھا۔ یہ ای کولائی وباء ابھی تک زیادہ تر جرمنی تک محدود ہے۔
جرمنی میں ایک ای کولائی کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے والے رابرٹ کوچ ا نسٹیوٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ای کولائی کی وباء کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔
برطانیہ میں جرمنی سفر کرنے والے اشخاص کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ جرمنی میں کچے کھیرے، سلاد اور ٹماٹر کھانے سے گریز کریں۔

بین الاقوامی خبریں

آئی ایم ایف پر ’بڑا‘ سائبر حملہ

آئی ایم ایف جس کے پاس کئی ملکوں کے بارے میں حساس نوعیت کا معاشی ڈیٹا ہوتا ہے
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس کے نیٹ ورک کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے حکام نے اگرچہ حملے کے بارے میں بہت کم تفصیلات جاری کی ہیں لیکن نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے شروع میں ہونے والا حملہ ادارے کے سسٹم میں ایک بہت بڑا رخنہ تھا۔
سائبر سکیورٹی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد آئی ایم ایف کے سسٹم میں ایک ایسا سوفٹ ویئر انسٹال کرنا تھا جس سے وہاں ڈیجیٹل موجودگی قائم رکھی جا سکتی ہے۔
آئی ایم ایف جس کے پاس کئی ملکوں کے بارے میں حساس نوعیت کا معاشی ڈیٹا ہوتا ہے کا کہنا ہے کہ اس کے آپریشنز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سائبر حملہ کئی ماہ تک جاری رہا اور یہ ادارے کے سابق سربراہ ڈومینِک سٹراس کاہن کی گرفتاری سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔
آئی ایم ایف کے ترجمان ڈیوڈ ہاؤلی نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ادارہ اس واقعے کی تفتیش کر رہا ہے۔ ’میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ سائبر سکیورٹی کے اس واقعے کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہہ سکوں۔‘
نیویارک ٹائمز کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے عملے کو اس حملے کے بارے میں بدھ کے روز ایک ای میل کے ذریعے بتایا گیا لیکن ادارے نے اس بارے میں کوئی عام بیان جاری نہیں کیا۔
ایم میں خبردار کیا گیا ہے کہ حملے کے دوران فائلوں کی مشتبہ منتقلی کو نوٹ کیا گیا ہے اور اس بارے میں ہونے والی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ادارے کے ڈیسک ٹاپ تک رسائی حاصل کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعے فنڈ کے سسٹم میں گھسا جا سکے۔
عالمی بینک نے احتیاطی تدابیر کے طور پر فنڈ کے نیٹ ورک سے اپنا رابطہ منقطع کر لیا ہے۔