Saturday, December 24, 2011

SORCE:BBC URDU

زمین کا ’جڑواں‘ سیارہ دریافت

کیپلر 22 زمین سے چھ سو نوری سال کے فاصلے پر ہے
ناسا کے ماہرین فلکیات نے ایک سیارے کی تصدیق کی ہے جو ایسے مدار میں گردش کرتا ہے جو ’ قابل رہائش‘ تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین فلکیات اس سیارے کو زمین کا ’جڑواں‘ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے زمین سے اتنا مشابہہ سیارہ دریافت نہیں ہوا ہے۔
ناسا کےماہرین فلکیات کے مطابق کیپلر 22 بی نامی سیارہ زمین سے چھ سو نوری سال کے فاصلے پر ہے اور اور اس کا حجم زمین سے دو اعشاریہ چار فیصد بڑا ہے۔
لیکن ماہرین کو ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سیارہ چٹانوں،گیس اور پانی پر مشتمل ہے یا نہیں ۔
ناسا کی کانفرنس میں جہاں اس سیارے کی دریافت کے بارے میں اعلان کیا گیا وہیں ایک ہزار چورانوے نئے ’امیدوار‘ سیاروں کا پتہ لگانے کا دعویٰ کیا گیا۔
’کیپلر 22 اپنے سورج سے زمین کی نسبت پندرہ فیصد کم فاصلے پر ہے اور اس کا سال 290 دنوں کا ہے۔ لیکن کیپلر 22 کا سورج اسے زمین کے سورج کی نسبت 25 فیصد کم حرارت مہیا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیپلر 22 کا درجہ حرارت بائیس سیلسیس ہے جو خوشگوار موسم اور معائع پانی کی موجودگی کا اشارہ دیتا ہے۔
ناسا کے ایمس ریسرچ سنٹر کے ولیم بوراکی نے کہا کہ قسمت ہم پر مہربان ہوئی ہے اور ہم نے یہ سیارہ دریافت کرلیا ہے

SOURCE:BBC URDU

چالیس فیصد افراد کینسر سے بچ سکتے تھے

فائل فوٹو
برطانیہ میں ایک لاکھ کینسر کیسز کی وجہ سگرٹ نوشی، خوراک، شراب نوشی اور موٹاپا ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں کینسر میں مبتلا تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار افراد ایسے ہیں جو اس جان لیوا مرض سے بچ سکتے تھے۔
کینسر رسرچ نامی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین میں پندرہ اعشاریہ چھ فیصد اور مردوں میں تئیس فیصد مریض تمباکو نوشی کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہوئے۔
برٹش جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے اس بارے میں اتنی تفصیلی رپورٹ کبھی منظرِعام پر نہیں آئی ہے۔
اس رپورٹ کے اہم مصنف پروفیسر میکس پارکن نے بتایا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کینسر کا ہونا یا نہ ہونا قسمت کا کھیل ہے یا پھر یہ بیماری کسی جینیاتی نقص کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن ان شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً چالیس فیصد کینسر کے کیس ایسے ہیں جن سے بچنا ہمارے اختیار میں ہے۔
پروفیسر پارکن کا کہنا تھا کہ اس رسرچ سے قبل یہ ان کے علم میں نہیں تھا کہ مرد حضرات زیادہ سبزیاں اور پھل کھانے سے کینسر سے بچ سکتے ہیں اور اسی طرح خواتین موٹاپے سے پرہیز کرنے سے اس جان لیوا بیماری سے بچ سکتی ہیں۔
کل ملا کر چودہ رہن سہن اور ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ چونتیس ہزار کینر کیس منظرِ عام پر آتے ہیں۔
جبکہ ایک لاکھ کینسر کیسز کی وجہ سگرٹ نوشی، خوراک، شراب نوشی اور موٹاپا ہے۔

SORCE:BBC URDU

 حافظ سعید، آئی ایس آئی پر فرد جرم کی اجازت


ممبئی پر حملے میں تقریبا ایک سو ستّر افراد ہلاک ہوئےتھے
بھارتی حکومت نے دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہوئے حملے کےمعاملے میں امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی، پاکستانی شہری حافظ سعید اور آئی ایس آئی کے دو افسران سمیت نو افراد پر فرد جرم عائد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ممبئی حملے کے کیس سے متعلق وزارت قانون سے رائے مانگی گئي تھی اور اسی کے مشورہ کے بعد وزارت داخلہ نے ان افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کو کہا ہے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق جن افراد کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے احکامات دیےگئے ہیں اس میں ذکی الرحمن لکھوی، طہور رانا، الیاس کشمیری کے نام کے ساتھ ہیڈلی کے ایک ساتھی ساجد ملک اور ان کے علاوہ عبدالرحمن کا نام بھی شامل ہے۔
پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے جن دو افسروں پر فرد جرم عائد کرنے کو کہا گيا ہے ان کے نام میجر اقبال اور سمیر علی بتائے جا رہے ہیں۔
قومی تفتیشی ٹیم این آئی اے نے ان افراد کے خلاف ایک مقدمہ پہلے ہی درج کیا تھا اور اب ان افراد پر بھارتی دفعات کے تحت ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
اس وقت امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی اور طہور رانا امریکی سکیورٹی حکام کی حراست میں ہیں۔ بھارتی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو صرف ہیڈلی سے پوچھ گچھ کے لیے محدود اجازت ملی تھی۔
طہور رانا پر امریکی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور وہ ڈنمارک میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں تو قصور وار پائے گئے لیکن ممبئی حملے میں وہ بری کر دیے گئے تھے۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں شدت پسندوں نے کئی مقامات پر حملے کیے تھے جس میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
ان حملوں کے بعد واحد زندہ بچنے والے حملہ آور اجمل قصاب ممبئی کی جیل میں قید ہیں۔ انہیں عدالت نے متعدد افراد کو ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا ہے اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی سازش پاکستان میں بنائی گئی اور وہیں سے حملہ آور ممبئی پہنچے تھے۔ بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور یہ کہ پاکستان نے حملے کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔
پا کستان میں ممبئی حملوں کی مبینہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار سات افراد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے لیکن ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے بھارتی حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن جلد بھارت آنے والا ہے۔
ممبئی حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور نتجیتاً امن مذاکرات بھی معطل ہوگئے تھے۔

Tuesday, September 27, 2011

source:bbc

سپین: بارسلونا میں بُل فائٹنگ کا خاتمہ


بُل فائٹنگ پر عائد پابندی کا اطلاق یکم جنوری سے ہو گا۔
سپین کے شمال مشرقی شہر کتالونیہ میں شائقین اتوار کو بُل فائٹنگ پر پابندی لگنے سے پہلے آخری لڑائی دیکھیں گے۔
ایک اندازے کے مطابق تقریباً بیس ہزار افراد بارسلونا کے یاد گاری سٹیڈیم میں ہونے والی یہ لڑائی دیکھیں گے جس میں چوٹی کے بُل فائٹرز جن میں جوز ٹوماس شامل ہیں حصہ لیں گے۔
واضح رہے کہ اس کھیل پر پابندی عائد کرنے کے لیے کتالونیہ میں اٹھارہ لاکھ افراد نے حکومت کو دستخط شدہ درخواست دی تھی جس کے بعد قانون سازوں نے اس پر پابندی کے حق میں ووٹ دیا۔
اس کھیل پر پابندی عائد کرنے والے افراد کا مؤقف ہے کہ بُل فائٹنگ ’وحشیانہ کھیل‘ ہے تاہم اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اس پابندی کو سپین کی اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔
سپین میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ بلیک مارکیٹ میں اس مقابلے کے ٹکٹ اصل قیمت سے پانچ گنا قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔
بُل فائٹنگ پر عائد پابندی کا اطلاق یکم جنوری سے ہو گا لیکن اتوار کو کتالونیہ میں ہونے والی لڑائی موجودہ سیزن کی آخری لڑائی ہو گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے بُل فائٹر جولیان لوپز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بارسلونا کا یاد گاری سٹیڈیم بہت خوبصورت ہے اور یہاں بُل فائٹنگ کے مقابلے اور دیگر قومی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
بارسلونا میں بُل فائٹنگ کے اس تاریخی مقابلے کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ ریکارڈ رفتار سے فروخت ہوئے۔
سپین میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ بلیک مارکیٹ میں اس مقابلے کے ٹکٹ اصل قیمت سے پانچ گنا قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔
بُل فائٹنگ مقابلے سپین کے کناری آئی لینڈ کے علاوہ پورے ملک میں منعقد ہوتے ہیں۔