Saturday, July 14, 2012

’سرن میں پاکستانی سائنسدانوں کی بڑی قدر‘

سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں جوہری تحقیق کی یورپی تجربہ گاہ ’سرن ‘سے منسلک ڈاکٹر حفیظ ہورانی کے مطابق سرن لیبارٹری کے ساتھ تیس کے قریب پاکستانی سائنسدان کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ انیس سو چورانوے میں سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا اور اس وقت سے اب تک تقریباً سو سے زائد سائنسدان سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
سرن کے ہیڈرون کولائیڈر منصوبے سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر حفیظ ہورانی کے مطابق ایک وقت میں لیبارٹری میں پندرہ کے قریب سائنسدان کام کرتے ہیں اور باقی سائسندان پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے تحقیقی کام کرتے ہیں جس کو ویلیو ایڈیشن کہا جاتا ہے۔
’سرن سے مختلف مواد تحقیق کے لیے بھیجا جاتا ہے اور یہاں پاکستان میں اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد مختلف ماڈلز تیار کر کے واپس بھیجے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر سائنسدانوں کا تعلق نیشنل سینٹر فار فزکس اور پاکستان کے جوہری ادارے ’پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سائنسدانوں کی مہارت اور قابلیت کی یورپ میں، خاص طور پر سرن سے متعلق کام کے حوالے سے بہت قدر کی جاتی ہے اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کے چالیس سائنسدان سرن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور پاکستانی سائنسدانوں کی تعداد تیس ہے۔
’سرن میں بھارتی سائنسدان صرف ایک منصوبے میں جبکہ پاکستانی سائنسدان دو پراجیکٹس’سی ایم ایس اور ایلس‘ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو( Experimental High Energy Physics) کہتے ہیں اور یہ سرن کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرن میں دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے سائنسدان کام کرتے ہیں اور پاکستانی سائنسدانوں کو ان کے ساتھ مل کر کام کرنے اور اس سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
’سرن میں دنیا کے جدید ترین آلات موجود ہیں جو کہ دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں، اور ان آلات پر ہمیں کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔‘
ڈاکٹر حفیظ ہورانی سے سیکھے گئے تجربات اور علم کو دیگر پاکستانی سائنسدانوں تک منتقل کرنے کے لیے اس شعبے کو نصاب میں شامل کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Saturday, July 7, 2012


وقت میں ایک سیکنڈ کا اضافہ 


دنیا میں وقت ناپنے کے دو بین الاقوامی طریقے مقرر کیے گئے ہیں
سنیچر کی رات دنیا بھر کی الیکٹرانک گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وہ زمین کی روزانہ گردش سے تال میل برقرار رکھ سکیں۔
گھڑیوں کے ایجاد سے پہلے لوگ وقت کا اندازہ آسمان میں سورج کے مقام سے لگاتے تھے لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، یہ پتہ چلا کہ زمین کو سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرنے میں ٹھیک چوبیس گھنٹے نہیں لگتے ہیں 
اس تاخیر کی وجہ مدوجزر اور موسمیاتی و ارضیاتی تبدیلیاں ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد دنیا بھر کی گھڑیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
کچھ حکومتیں اور سائنسدان وقت اس تبدیلی کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے دنیا بھر کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو خطرہ ہو سکتا ہے.
تاہم اس عمل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو یہ قدرتی نظام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق اگر اس ایک سیکنڈ کا اضافہ نہیں ہوتا تو وقت ناپنے والی ہماری گھڑیاں اور زمین کی گردش کے وقت کے درمیان کا فاصلہ بڑھ جائےگا جو مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دنیا میں وقت ناپنے کے دو بین الاقوامی طریقے مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک بین الاقوامی ایٹمی وقت جو دنیا بھر میں پھیلی ایٹمی گھڑیوں پر مبنی ہے اور دوسرا يونورسل ٹائم 1 جو گرينچ مین ٹائم کا جانشین ہے جس میں وقت کا تعین آسمان میں سورج کے مقام سے کیا جاتا ہے۔
پہلے طریقے کے مطابق ایٹمی گھڑیوں کو قریب ہر اٹھارہ ماہ بعد بہتر کیا جاتا ہے تاکہ وقت ناپنے کے طریقوں میں ایک سیکنڈ سے زیادہ کا فرق نہ آئے۔