Friday, May 20, 2011

مضامین

والدین کے جھگڑوں کا بچوں پر اثر

والدین کے جھگڑوں کا بچوں پر اثر
’شادی شدہ زندگی میں مسائل سے بچوں کی نیند پر منفی اثر پڑتا ہے‘
محققین کے مطابق اگر والدین آپس میں خوش نہ ہوں تو اس کا اثر براہ راست گھٹنوں چلنے والے بچوں کی نیند پر ہوتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس عمر کے بچوں میں ٹوٹی نیند کا اثر ان کے ذہن پر پڑتا ہے اور آگے چل کر مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
’چائلڈ ڈیولپمینٹ‘ نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں امریکہ میں مقیم تین سو ستاون گود لیے گئے بچوں اور ان کے خاندانوں پر تحقیق کی گئی ہے۔
ایک برطانوی محقق کے مطابق والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپس میں جھگڑوں اور دیگر قسم کے تناؤ کا اثر ان کی زندگی اور بچوں پر پڑ سکتا ہے۔
اس تحقیق میں والدین کے ساتھ تب گفتگو کی گئی جب ان کے بچے نو ماہ اور پھر اٹھارہ ماہ کے تھے۔ ان سے اس طرح کے سوالات پوچھے گئے جس سے ان کے آپس کے رشتے اور کام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ان کے بچے کو نیند آنے اور پھر سوتے رہنے میں مشکلات پیش آتی ہیں یا نہیں۔
محققین کے مطابق نو ماہ کی عمر پر والدین کے رشتے کا اثر بچے کی نیند پر اٹھارہ ماہ کی عمر میں سامنے آتا ہے۔ تحقیق کے مطابق شادی شدہ زندگی میں مسائل سے بچوں کی نیند پر منفی اثر پڑتا ہے۔
یونیورسٹی آف لیسٹر کے پروفیسر گارڈن ہیرولڈ کا کہنا ہے کہ ’بچپن میں اچھی اور باقاعدہ نیند دماغی اور جسمانی نشونما کے لیے اشد ضروری ہے۔ ٹوٹی نیند کا براہ راست اثر ذہن پر پڑ سکتا ہے جس سے آگے چل کر بچوں کے رویے کے علاوہ کئی سماجی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘
جن بچوں پر تحقیق کی گئی انہیں پیدا ہوتے ہی گود لیا گیا تھا۔ پروفیسر ہیرلڈ کا کہنا ہے کہ ’جینیاتی عناصر کا اثر کسی حد تک تو ہوتا ہے مگر اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماں باپ کے رشتہ کا اثر بچوں پر ہر حال میں ہوتا ہے۔‘
سکاٹ لینڈ کے ’لارن اینڈ آئیلینڈس‘ ہسپتال کے بچوں کے ڈاکٹر جیمی ہوسٹن کا کہنا ہے کہ ’ماں باپ کو خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اب یہ بات بار بار سامنے آ رہی ہے کہ زندگی کے پہلے کچھ سالوں کا اثر باقی زندگی پر پڑتا ہے۔

Tuesday, May 17, 2011

ہیلتھ کارنر source.voa


چائے کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب، کافی،  ہے۔ طبی ماہرین کا کہناہے کہ کافی میں موجود کیفین انسان کو چاق وچوبند رکھتی ہے ۔ چائے میں بھی کیفین موجود ہوتی ہے، تاہم اس میں یہ مقدار کافی کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے۔
حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ کافی کے پانچ کپ روزانہ پینے سے 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین  میں چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتاہے۔
دنیا میں ہر سال 40 ہزار سے زیادہ خواتین چھاتی کے کینسر سے ہلاک ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کا کہناہے کہ روزانہ کافی کے زیادہ استعمال سے چھاتی میں گلٹی بننے کا امکان 20 فی صد تک گھٹ جاتا ہے۔
اس مرض کی ایک اور قسم ، جو زیادہ عام نہیں ہے، ای آر نیگیٹو کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس مرض میں مبتلا خواتین کی تعداد کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں  ان سے نصف ہوتی ہے جو باقاعدگی سے کافی پیتی ہیں۔
ماہرین کایہ بھی کہناہے کہ تاہم ابھی اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کافی چھاتی کے سرطان خلاف اتنی مؤثر کیوں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ کافی میں بڑی مقدار میں اینٹی آکسی ڈینٹس کی موجودگی ہو۔
 چائے میں بھی بڑی مقدار میں اینٹی آکسی ڈینٹس موجود ہوتے ہیں اور کچھ عرصے قبل کی ایک تحقیق سے ظاہر ہواتھا کہ کالی چائے انسان کی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کی وجہ سے انسان بیماریوں کے حملوں کا بہتر طورپر مقابلہ کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
 جریدے بریسٹ کینسر ریسرچ میں  شائع ہونے  والے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں سویڈن کے Karolinska انسٹی ٹیوٹ میں ماہرین نے پانچ ہزار ایسی خواتین پر تحقیق کی جن کی عمریں 50 سال سے زیادہ تھیں اور ان میں سے تقریباً نصف چھاتی کے سرطان میں مبتلا تھیں۔
ماہرین نے زیر مطالعہ خواتین کا اس پہلوسے جائزہ لیا کہ  ان میں کونسی خواتین کافی پیتی ہیں اور پھر ان کی درجہ بندی کافی کے روزانہ استعمال کو سامنے رکھتے ہوئے کی ۔
ماہرین کو معلوم ہوا کہ جو خواتین کافی کے پانچ کپ روزانہ پیتی تھیں ، ان میں مجموعی طورپر چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خطرہ 20 فی صد کم تھا۔
ماہرین نے جب یہ جاننے کے لیے کینسر سے متاثرہ خواتین کس قسم کے سرطان میں مبتلا ہیں، ان کی سکریننگ کی تو انہیں معلوم ہوا کہ زیادہ مقدار میں کافی پینے والی خواتین میں ای آر نیگیٹو کینسر کی شرح 57 فی صد سے بھی کم تھی۔
ای آر نیگیٹو کینسر بہت کم ہوتا ہے ، لیکن اس کا علاج بھی بہت مشکل ہے۔
امریکن کینسر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ہر سال دولاکھ  سے زیادہ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخص ہوتی ہے۔

Saturday, May 14, 2011

شاعری

’نئی دوا سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ محدود‘

فائل فوٹو
عالمی ادارہ برائے صحت نے ان نتائج کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے
ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایچ آئی وی سے متاثرہ مریض بیرونی خلیے کی تولید کو روکنے کی دوا کا استعمال کرے تو اس طرح اس میں اپنے جنسی ساتھی کو ایچ آئی وی سے متاثر کرنے کا خطرہ چھیانوے فیصد کم ہوجاتا ہے۔
امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے کرائی گئی اِس عالمی تحقیق میں 1,763 جوڑوں کا مشاہدہ کیا گیا جن میں سے صرف ایک کا ساتھی ایچ آئی وی سے متاثر ہوا۔
اس تحقیق کے ذریعے مطلوبہ نتائج ملنے کی صورت میں اسے اپنے وقت سے چار سال پہلے ہی ختم کردیا گیا۔
عالمی ادارہ برائے صحت نے ان نتائج کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ تحقیق افریقہ، ایشیاء اور امریکہ کے تیرہ مختلف مقامات پرسنہ دوہزار پانچ میں شروع کی گئی تھی۔
ایچ آئی وی کے مریضوں کو دو علٰیحدہ دھڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک دھڑے کےمریضوں کو فوری طور پر بیرونی خلیے کی تولید کو روکنے کی دوا کا استعمال کرایا گیا تھا۔
دوسرے دھڑے کے مریضوں کو دوا کا استعمال اس وقت شروع کرایا گیا تھا جب ان کے خون کے سفید خلیوں میں کمی ہونا شروع ہوئی تھی۔
جنہیں فوری طور سے دوا کا استعمال شروع کرایا گیا تھا ان میں صرف ایک جوڑا ایسا تھا جس کے متاثرہ ساتھی نے ایچ آئی وی وائرس اپنے صحتمند ساتھی کو منتقل کیا تھا۔
ایچ آئی وی وائرس کی اسّی فیصد منتقلی جنسی روابط سے ہوتی ہے
عالمی ادارۂ صحت
اقوامِ متحدہ کے ایچ آئی وی کے پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ’ اور اس طرح اس بیماری سے محفوظ رہنے میں انقلاب آئےگا۔ اس کے ذریعے ایچ آئی وی کے علاج اور احتیاط کی نئی ترجیحات سامنے آئیں گی۔‘
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس کی اسّی فیصد منتقلی جنسی روابط سے ہوتی ہے۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے بھی تحقیق کے نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ان کے بقول عالمی ادارۂ صحت جولائی میں ان ایچ آئی وی مریضوں کے لیے نئے رہنماء اصول جاری کررہا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے جنسی ساتھی کو اِس مرض سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور نئی تحقیق ان رہنماء اصولوں کو مزید مستحکم کرے گی۔
بیرونی خلیے کی تولید کو روکنے جراثیم کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی اہمیت پر پہلے بھی مشاہداتی تحقیق کے بعد قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں لیکن اب تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ اس کو تجربات کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے۔
ایک امدادی تنظیم کے رکن کیتھ الکرن کا کہنا ہے کہ ہمیں ایچ آئی وی کے علاج کے لیے نئے عزم کی ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ تحقیق کے ذریعے ملکی سطح پر کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔